خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 427 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 427

خطبات طاہر جلد 17 427 خطبہ جمعہ 19 جون 1998ء آیا کہ اتنا نیک، اتنا بزرگ، اتناسخی انسان کوئی بات ہے جو مجھے یہ کھانا نہیں کھانے دے رہا۔پوچھا کہ بتائیں کیا بات تھی۔تو انہوں نے کہا کہ مجھے ڈاکٹر نے Cod-Liver Oil ( مچھلی کا تیل) کھانے کا حکم دیا اور اتنا بد بودار ہے کہ میں وہ کھا ہی نہیں سکتا۔تو میں نے یہ ترکیب سوچی کہ گھی کی بجائے روٹیاں اس سے چپڑلوں اور روٹیاں چپڑ چپڑ کے ان کو گلے سے اتاروں۔تو یہ بھی ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ یہ جھوٹ والے گندے لوگ گند کو نئے نئے طریقوں کے ساتھ کھاتے ہیں مگر گند تو گند ہی رہے گا وہ تو نہیں کبھی ہٹے گا۔کہتے ہیں : جنسی کے طور پر لوگ جھوٹ بولتے ہیں۔انسان صدیق نہیں کہلا سکتا جب تک جھوٹ کے تمام شعبوں سے پرہیز نہ کرے۔“ (الحکم، جلد 7 نمبر 8 صفحہ:5 مؤرخہ 28 فروری 1903ء) اب اس کا آغاز ہزار ہا حکموں کی بات سے ہوا تھا۔اب جھوٹ کے تمام شعبوں سے اگر آپ پر ہیز کریں تو بتا ئیں کتنے شعبے بن جائیں گے۔روز مرہ کی انسانی زندگی میں بے شمار مواقع آتے ہیں جب انسان صاف گوئی اور سچائی سے کام نہیں لیتا بلکہ جھوٹ کی پناہیں ڈھونڈتا ہے اور اس میں سے ہر دفعہ، ہر موقع پر جھوٹ اپنی ذات میں ایک الگ گناہ بن جاتا ہے۔جن حالات میں وہ بولا گیا، کن کے سامنے بولا گیا ، کیا کیا مقصد تھا وغیرہ وغیرہ۔تو ایک جھوٹ کے شعبے بھی اتنے ہیں جو شمار نہیں ہو سکتے اور اس کے علاوہ جب آپ قانون قدرت پر غور کریں اور زمین و آسمان میں جو قرآن کریم نے گہری حکمتوں کے راز بیان فرمائے ہیں تو ساری کائنات کا مطالعہ آپ پر اتنا ہی زیادہ شکر کو لازم کرے گا۔بے انتہا چیزیں ملیں گی کہ جب ان پر غور کریں گے تو دل شکر سے بلیوں اچھلے گا۔تو اسی لئے احکامات کو گنا چھوڑ دیں۔ان کی گنائی ممکن ہی نہیں۔جتنے اللہ کے احسان اتنے ہی زیادہ خدا تعالیٰ کے ہاں اوامر اور نواہی ملتے ہیں اور قرآن کریم میں یہ جو آتا ہے کہ اگر سمندر سیاہی ہو جاتے اور میرے کلمے لکھتے تو وہ سیاہی خشک ہو جاتی خواہ سات سمندر اور آ جاتے مگر کلمات کو لکھ نہیں سکتے تھے۔پس یہ احکام ہیں، کلمات الہی جن کی کوئی حد نہیں۔دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان کلمات کو سمجھنے اور ان کو پڑھ کر اس کے ساتھ جو شکر وابستہ ہیں وہ شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین