خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 414
خطبات طاہر جلد 17 414 خطبہ جمعہ 19 جون 1998ء تیسرا طریق اصلاح کا یہ ہے کہ جو لوگ اخلاق فاضلہ سے متصف ہو گئے ہیں۔اول تو اخلاق فاضلہ سے متصف کرنے کے لئے جیسے کہ میں نے بیان کیا ہے بہت لمبی محنت کی ضرورت ہے لیکن ایک دفعہ کوئی اخلاق فاضلہ سے متصف ہو جائے یعنی اس کا وصف بن جائے تو وہاں بات کو چھوڑنا فی الحقیقت سفر کا کچھ حصہ طے کرنے والی بات ہے بالآخر یہ سفر اللہ تعالیٰ کی محبت پر منتج ہونا چاہئے اور اس کے سوا اس سفر کا کوئی مقصد نہیں ہے۔فرمایا جب وہ متصف ہو جائے پھر زاہدوں کو شربت محبت اور وصل کا مزا چکھایا جائے۔ان کو بتایا جائے کہ اللہ کی محبت اور اس کے وصل کا شربت پینے میں کتنا مزا ہے۔یہ تین اصلاحیں ہیں جو قرآن شریف نے بیان فرمائی ہیں۔اور ہمارے سید ومولی نبی صلی اللہ یہ تم ایسے وقت میں مبعوث ہوئے تھے جبکہ دنیا ہر ایک پہلو سے خراب اور تباہ ہو چکی تھی۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم : 42) یعنی جنگل بھی بگڑ گئے اور دریا بھی بگڑ گئے۔یہ اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ جو اہل کتاب کہلاتے ہیں وہ بھی بگڑ گئے اور جو دوسرے لوگ ہیں جن کو الہام کا پانی نہیں ملا وہ بھی بگڑ گئے۔پس قرآن شریف کا کام دراصل مردوں کو زندہ کرنا تھا جیسا کہ وہ فرماتا ہے اعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا (الحديد : 18) جان لو کہ اللہ ہی ہے جو زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد پھر زندہ کرتا ہے۔اب یہاں ایک آیت بے ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ لیکن رسول اللہ لی ما یلم کے ظاہر ہونے سے پہلے ساری دنیا کی جتنی خرابیاں ہیں ان کا مضمون اسی میں آگیا ایک بھی خرابی ایسی نہیں جو انسان کو لاحق ہو سکتی تھی ، ایک بھی فسق و فجور کی راہ نہیں جسے انسان اختیار کر سکتا تھا اور آنحضرت صلی ایتم نے اُن میں سے ہر ایک کی راہ نہ روک لی ہو۔تو دیکھے ایک وحدت کے نیچے پھر کس طرح کثرت ملتی ہے۔کام تو آپ صلی ای سیم کا صرف ایک بیان فرمایا کہ فساد سے خشکی بھی بھر گئی اور سمندر بھی بھر گیا اور آپ صلی ایلیم نے ان فسادات کو دور کر دیا۔مگر وہ فسادات تھے کتنے ؟ اس کا اگر کچھ اندازہ آپ نے کرنا ہوتو اس زمانہ میں دنیا کا بالکل وہی نقشہ ہو چکا ہے۔ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ باقی دنیا کو چھوڑ دیں اپنے امریکہ کی خبر کریں۔خود امریکہ میں اتنی بے حیائی ہے، اتنی بے راہ روی ہے کہ ایک زمانہ تو یہ تھا کہ امریکہ سے