خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 413 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 413

خطبات طاہر جلد 17 413 خطبہ جمعہ 19 جون 1998ء اصلاح کے بھی تین ہیں۔اول یہ کہ بے تمیز وحشیوں کو اس ادنی خُلق پر قائم کیا جائے کہ وہ کھانے پینے اور شادی وغیرہ تمدنی امور میں انسانیت کے طریقے پر چلیں۔نہ ننگے پھریں اور نہ کتوں کی طرح مردار خوار ہوں اور نہ کوئی اور بے تمیزی ظاہر کریں۔یہ طبعی حالتوں کی اصلاحوں میں سے ادنی درجہ کی اصلاح ہے۔یہ اس قسم کی اصلاح ہے کہ اگر مثلاً پورٹ بلیر کے جنگلی آدمیوں میں سے کسی آدمی کو انسانیت کے لوازم سکھلا نا ہو۔“ پورٹ بلیر کسی زمانہ میں آدم خوروں کے لئے مشہور ہوا کرتی تھی تو اس لئے وہ پورٹ بلیئر کا حوالہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دیا ہے۔فرمایا: " مثلاً پورٹ بلیئر کے جنگلی آدمیوں میں سے کسی آدمی کو انسانیت کے لوازم سکھلانا ہو تو پہلے ادنی ادنی اخلاق انسانیت اور طریق ادب کی ان کو تعلیم دی جائے۔دوسرا طریق اصلاح کا یہ ہے کہ جب کوئی ظاہری آداب انسانیت کے حاصل کر لیوے تو اس کو بڑے بڑے اخلاق انسانیت کے سکھلائے جائیں اور انسانی قویٰ میں جو کچھ (بھی) بھرا پڑا ہے۔ان سب کو محل اور موقع پر استعمال کرنے کی تعلیم دی جائے۔“ اب اس عبارت سے تین طریقے اصلاح کے بیان فرمائے ہیں لیکن معمولی تدبر کرنے والا انسان بھی غور کر سکتا ہے کہ ہر طریقہ کے تابع بے شمار اور طریقے ہیں۔ایک بڑا حکم ہے اس بڑے حکم کے آگے شاخیں ہیں اور پھر شاخیں در شاخیں چلتی چلی جاتی ہیں۔اب ایک وحشی کو مثلاً پورٹ بلیر کے وحشی کو جب آداب سکھانے ہوں گے تو اس میں ان لوگوں کی گندی عادات جو مدتوں سے چلی آرہی ہیں ان کا مطالعہ ضروری ہوگا۔ان عادات کی اصلاح کے لئے جو موقع اور محل کے مطابق اصلاح ضروری ہے اس پر غور اور فکر کی ضرورت ہوگی۔ان کو سکھانا ہوگا۔تو بات تو ایک ہی حکم سے چلتی ہے اللہ کی اطاعت لیکن آگے پھر پھیلتی چلی جاتی ہے اور اسی طرح تعلیمات ایک سے پھر متعد د تعلیمات میں منتقل ہو جاتی ہیں گویا توحید کے تابع پھر خدا تعالیٰ کا بندوں سے جو سلوک ہے وہ بندوں کی نسبت سے پھیلتا چلا جاتا ہے۔" تیسرا طریق اصلاح کا یہ ہے کہ جو لوگ اخلاق فاضلہ سے متصف ہو گئے ہیں ایسے خشک زاہدوں کو شربت محبت اور وصل کا مزا چکھایا جائے۔“