خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 415 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 415

خطبات طاہر جلد 17 415 خطبہ جمعہ 19 جون 1998ء لگتا تھا بے حیائیاں دس اور کو جاتی ہیں لیکن اب دوسرے ملکوں نے بھی اتنا مقابلہ کیا ہے بے حیائیوں میں کہ اب کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ بے حیائی یہاں زیادہ ہے یا باہر زیادہ ہے۔ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِ وَالْبَحْرِ کا یہ مطلب ہے یعنی اب یہ فرق نہیں رہا کہ کہاں سے برائی پھوٹی تھی۔مذہب کہاں تھا اور لامذہبیت کہاں تھی۔جب سب برائیاں ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر برابر ہو جائیں تو اس وقت یہ محاورہ صادق آتا ہے ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي البَر وَ الْبَحْرِ خشکی اور تری دونوں فساد سے بھر گئے۔تو باہر کے ملکوں میں آپ میں سے ہر ایک کو جانے کا موقع ملے یا نہ ملے مجھے سفر کا موقع ملتا رہتا ہے۔افریقہ بھی جاتا ہوں، امریکہ بھی اور یورپ کے ممالک ہیں یا مشرق بعید کے ممالک ان کا بھی سفر کرتا ہوں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ زمانہ جس کا نقشہ قرآن کریم نے کھینچا تھا وہ آج بعینہ اس دنیا پر پورا اتر رہا ہے۔اب کوئی ان کو شمار کر کے دیکھے کہ برائیاں ہیں کتنی تو احکام کا اندازہ ہو جائے گا کتنے ہونے چاہئیں۔ہزارہا، لاکھوں برائیاں ہیں اور ان لاکھوں برائیوں کے مقابل پر ایک حکم ہے نہی، یہ برائی نہیں کرنی ، یہ برائی بھی نہیں کرنی اور یہ بھی۔اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَابْتَاي ذِي الْقُرْبى کے بعد وَ يَنْهى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغِی اس آیت کریمہ نے یہ جو تین بچنے کی باتیں بیان فرمائی ہیں یہ سارے اُن کے تابع ہیں اور اب کوئی حساب کرتا ہے تو کرتا پھرے۔ناممکن ہے کہ ان برائیوں کو گن سکے جن برائیوں کا ایک آیت کے تین حصوں میں ذکر فرما دیا گیا۔پس اسی سے اندازہ ہو جائے گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جہاں ایک حکم، دو حکموں، تین حکموں کی باتیں کرتے ہیں تو آپ کے ذہن میں ایک پورا جہان ہے حکموں کا۔منا ہی کا بھی اور احکامات کا بھی۔اور اس پہلو سے آپ کو میں بعض اور مثالیں دوں گا اس سے اندازہ ہوگا کہ حکموں کا تو کوئی شمار ہی نہیں رہتا۔اس لئے وہ علماء جنہوں نے پانچ سوگنے یا سات سو گنے وہ کوتاہ نظر تھے، وہاں ٹھہر گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پانچ سو بھی گنے اور سات سو بھی گئے اور پھر آپ کی نظر ہر طرف پھیل گئی اور آپ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ پانچ سو، سات سو کی کیا بحث ہے یہ تو بے شمار چیزیں ہیں جن کا قرآن کریم میں ذکر مل رہا ہے، جن سے بچنا ضروری ہے یا جن پر عمل کرنا ضروری ہے۔اب آنحضرت سلیم کی سرزمین عرب کا حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام یوں بیان فرماتے ہیں: