خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 400 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 400

خطبات طاہر جلد 17 400 خطبہ جمعہ 12 جون 1998ء بے شک جنت نشان بتاتے رہیں لیکن اس جنت میں جو حرکتیں ہو رہی ہیں وہ اس جنت میں نہیں ہوسکتیں جس کا ذکر قرآن کریم میں ملتا ہے، کوئی دور کی بھی نسبت نہیں۔اب میں اس مختصر ذکر کے بعد اٹامک انرجی اور اس کا پس منظر آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ جو سہرا بھٹو صاحب کے سر پر باندھا جا رہا ہے، یہ سراسر جھوٹ ہے۔اس کا سہرا اگر کسی پاکستانی سیاستدان کے سر بندھنا چاہئے تو وہ ایوب خان ہیں۔جنرل ایوب خان سے ہی اٹامک انرجی کے انسٹی ٹیوشن کا آغاز ہوا ہے اور عجیب بات ہے کہ گوہر ایوب صاحب خود اپنے باپ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ڈرتے ہیں کیونکہ 1965ء کی جنگ میں جو حالات رونما ہوئے اس کے نتیجے میں جنرل ایوب خان نے یہ پہلا فیصلہ کیا تھا کہ ہمیں لازماً ایٹمی توانائی کی طرف توجہ کرنی ہوگی ورنہ ہم ہندوستان جیسے مد مقابل کے سامنے مات کھا جائیں گے اور پھر کوئی بعید نہیں کہ ہندوستان ہمارے ملک پر قابض ہو جائے۔اس لئے ایک ہی علاج ہے کہ ایٹمی توانائی کو فروغ دیا جائے۔ایوب خان کی نظر انتخاب جس سائنس دان پر پڑی جس پر آپ کو کامل اعتماد تھا وہ ڈاکٹر عبدالسلام تھے۔ڈاکٹر عبدالسلام نے ابتدائی اور بنیادی خدمات سرانجام دینے میں ایسا کردار ادا کیا کہ اگر کوئی مؤرخ شریف النفس ہو تو اس کردار کو بھلا نہیں سکتا اور اس معاملہ میں ایسی سیکریسی (Secrecy) سے کام لیا ہے جس کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ احمدیوں کو ہم ہٹا رہے ہیں ہر جگہ سے کیونکہ یہ اپنے راز کی باتیں دوسروں کو بتا دیتے ہیں لیکن ڈاکٹر عبدالسلام صاحب نے ان امور میں اس قدر اخفاء سے کام لیا ہے کہ بہت بعد تک جب یہ سارے واقعات گزرے مجھے ملتے رہے تو ایٹمی توانائی میں اپنا جو کردار تھا اس کا ذکر بھی نہیں کیا انہوں نے۔سرسری ساذ کر کرتے رہے ہیں اور تاثر یہ دیا کہ گویا ایٹمی توانائی کا جو کام ہوا ہے یہ بعد میں ہوا ہے۔جھوٹ تو نہیں بول سکتے تھے مگر تا ثریہ دیا۔میں نہیں جانتا کن الفاظ سے مجھ پر یہ تاثر قائم ہوا مگر اپنے نفس کو بڑھانے کی ان کو عادت ہی نہیں تھی اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ایک انتہائی منکسر المزاج انسان تھے، کچے پاکستان کے ہمدرد اور ایوب خان نے جو اعتماد آپ پر کیا اس کو سچا ثابت کر دکھایا۔یہ جتنے اٹامک ، نیوکلیر کمیشن بنے ہیں مختلف قسم کے اٹامک یعنی یورینیم وغیرہ کی افزائش کے انتظامات ہوئے ہیں، ان سب میں ڈاکٹر