خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 399 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 399

خطبات طاہر جلد 17 399 خطبہ جمعہ 12 جون 1998ء کہ یہ مسئلہ بہت اہم ہے ابھی ووٹ نہیں ہونے چاہئیں کیونکہ ان کو پتا تھا کہ اگر اسی وقت ووٹ ہو جاتے تو یہودی حکومت کے قیام کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔یہ وقت مانگا اور تمام دنیا کی حکومتوں پر دباؤ ڈالا کہ تم اپنے فلاں نمائندہ کو جو اس وقت یہود کی حکومت کے خلاف ہو چکا ہے حکماً، جبراً مجبور کرو کہ اپنا ووٹ فلسطین میں یہود کی حکومت کے قیام کے حق میں دے اس کے خلاف نہ دے۔جب ساری گفتی کر لی اور یقین ہو گیا کہ اب ہر صورت میں یہودی حکومت کے قیام کے حق میں فیصلہ ہو گا تب کچھ عرصہ کے بعد انہوں نے یونائیٹڈ نیشنز میں جس کو ڈویژن کال کہتے ہیں یعنی ووٹ طلب کئے کہ بتاؤ کون کس کے حق میں ہے۔اس وقت حال یہ تھا کہ بعض نمائندگان روتے ہوئے ظفر اللہ خان سے کہہ رہے تھے کہ ہمارا کوئی قصور نہیں ہے۔ہم ابھی بھی اس بات پر سو فیصد مطمئن ہیں کہ فلسطین پر یہودی حکومت کا قیام جائز نہیں لیکن اپنی حکومتوں کے ہاتھوں مجبور ہیں اور بالآخر معمولی اکثریت سے یہ فیصلہ ہو گیا جو اس سے پہلے بھاری اکثریت سے اس فیصلہ کو ر ڈ ہو جانا چاہئے تھا یعنی اگر اس وقت جس وقت ظفر اللہ خان نے تقریر ختم کی تھی اس وقت اگر ووٹ ہوتے تو یونائیٹڈ نیشنز کی بھاری اکثریت اس فیصلہ کو رڈ کر دیتی۔اس کے بعد کیا ہوا، کس طرح عرب نمائندوں نے ظفر اللہ خان کی محبت کے گیت گائے ہیں، کس طرح بعد میں عرب رسالوں نے خواہ وہ کسی عرب ملک سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے اخبارات نے ظفر اللہ خان کی مدح سرائی کی ہے اس میں یہاں تک لکھا گیا کہ رسول اللہ صلی ا یہی تم سے آج کے زمانہ تک یعنی جب سے رسول اللہ صلی ا یہ ستم کا وصال ہوا اور پہلا دور ختم ہوا ، اس کے بعد آج تک جتنا بھی زمانہ گزرا ہے اس میں ظفر اللہ خان سے بڑھ کر اسلام کا حمایتی ہم نے نہیں دیکھا۔یہ ساری باتیں فراموش کر دی گئیں ، عمداً ان کو مٹایا جارہا ہے۔اس تاریخ کو جو یونائیٹڈ نیشنزر کے مسودات کا حصہ بنی ہوئی ہے اس کو پاکستان نظر انداز کر دیتا ہے۔اب یہ کیا انصاف ہے یہ کیسی تاریخ ہے؟ آئندہ آنے والی تاریخ ان تاریخ دانوں کو جو آج کل پاکستان پر مسلط ہیں ان کو لازماً جھوٹا اور بدکردار ثابت کرے گی۔آئندہ آنے والی نسلیں ان کی تیار کردہ تاریخ پر لعنتیں ڈالیں گی اس میں کوئی بھی شک نہیں۔سردست ان کا پلہ بھاری ہے یہ جس چیز کا جو چاہیں نام رکھ لیں۔اپنے صحراء کو