خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 367
خطبات طاہر جلد 17 367 خطبہ جمعہ 29 مئی 1998ء ہو جائے۔اور جو مجھے دکھائی دے رہا ہے وہ آئندہ کشمیر پر بے انتہا مظالم کا دور آنے والا ہے۔جتنے بھی وہاں مزاحمت کے اڈے موجود ہیں پاکستان کہتا ہے کہ پاکستان سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔اب جب تعلق نہیں ہے تو پھر احتجاج بھی نہیں کر سکتے ، یہ ظاہر بات ہے۔اس لئے جو پاکستان کہتا ہے اس کے خلاف مجھے کہنے کا حق نہیں ہے کیونکہ بہر حال میرا ملک ہے میں اپنے ملک کے صاحب اقتدار لوگوں کے کھلے دعوئی کا انکار نہیں کر سکتا، اس کی عملی ظاہری تردید نہیں کر سکتا۔پس فرض کریں کہ پاکستان سے ان کا کوئی تعلق نہیں جب کوئی تعلق نہیں تو ہندوستان یہ موقف لے گا کہ ہم اپنے ملک کے باشندوں پر جو چاہیں کریں تم کون ہوتے ہو۔؟ اس کا جواب پاکستان صرف یہ دے سکتا ہے کہ ہیں تو تمہارے ملک کے باشندے مگر عملاً ان کو تمہارے ملک کا باشندہ ہم تسلیم نہیں کرتے اس لئے احتجاج کر سکتے ہیں۔مگر جب تک باؤنڈریز موجود ہیں ان کے احتجاج کی کوئی بھی قیمت نہیں۔ہندوستان نے لازماً پورے انتظام کر لئے ہیں کہ ان اڈوں کو جو پاکستان کے نہ سہی مگر ہندوستان کے مفاد کے خلاف ہیں، خواہ وہ مفاد ناجائز ہو ، ہندوستان کے مفاد کے خلاف اہل کشمیر میں جہاں جہاں بھی مزاحمت کے اڈے ہیں ان کو کلیۂ بے رحمی کے ساتھ کچل دیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں بے انتہا ظلم ہونے والا ہے۔اور یہ جو ایٹم بمز یا نیوکلیئر بمز کی Threat اس کا خطرہ ہے وہ دونوں طرف سے Lock ہو کر ڈیٹرنٹ (Deterrent) بن گیا ہے۔نہ پاکستان ہندوستان کے خلاف بم استعمال کر سکتا ہے، نہ ہندوستان پاکستان کے خلاف بم استعمال کر سکتا ہے۔یہ جو چھتری بن گئی ہے اس چھتری کے نیچے وہ کشمیر میں ہر اس جدو جہد کا صفایا کر دیں گے جو ان کے مفاد کے خلاف ہے۔پاکستان احتجاج ہی کرسکتا ہے۔کن کے پاس؟ ان حکومتوں کے پاس جو اس سازش میں شریک ہیں۔کیا یونائٹڈ نیشنز میں احتجاج کرے گا جو خوب جانتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور کوئی قدم نہیں اٹھا ر ہے۔پس یہ احتجاج بالکل بے معنی ثابت ہوگا اور عملاً ہندوستان کو روک نہیں سکے گا۔اس کی صرف ایک صورت ہے کہ ہندوستان پھر آزاد کشمیر پر حملہ کرنے کی جرات کرے جو ان کے ارادوں میں داخل ہے۔اگر ایسا ہوا تو پھر پاکستانی فوج کو پوری طرح جوابی کارروائی کا حق ہوگا اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس کا کیا نتیجہ نکلے گا مگر اس لڑائی نے دونوں ملکوں کی اقتصادیات کو بالکل تباہ کر دینا ہے۔اقتصادیات کا ایک بڑا حصہ تو پہلے