خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 366
خطبات طاہر جلد 17 366 خطبہ جمعہ 29 مئی 1998ء استعمال کیا گیا تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بالکل ٹھیک ہنستے کھیلتے وہ اپنے ہسپتالوں سے باہر نکل آئے یا باہر نکلنے کے اُمیدوار ہیں۔تو جو میں بات کہہ رہا ہوں یہ ایک فرضی تعلی کی بات نہیں، در حقیقت آزمودہ بات ہے اور ہر جگہ احمدیوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے لئے بھی ان دواؤں کو ابھی استعمال کرنا شروع کر دیں اور غیروں کے لئے بھی اپنی رحمت کا دروازہ کھولیں اور ان کو بھی آمادہ کریں ورنہ ایک دفعہ وسیع پیمانے پہ یہ شروع ہوگئی تو ہر گھر تک پہنچنا مشکل ہو جائے گا۔اس لئے جیسے بھی ہو سکے اعلان کر کے، اشتہار دے دے کے اہل پاکستان اور اہل ہندوستان سے کہیں کہ اب آپ تابکاری کے خلاف ایک ٹھوس قلعہ بند ہونے کی تیاری کرو اور یہ قلعہ بندی جو میں عرض کر رہا ہوں یہ حقیقت ہے۔یہ ایک افسانہ یا کہانی نہیں ہے لیکن ناممکن ہے کہ وسیع پیمانے پہ ہر شخص اس نصیحت کوسن بھی سکے،اس پر عمل کر سکے، وہ دوائیں اس کے لئے حاصل ہوں۔اس لئے میرے کہنے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا لیکن یہ تو ضرور ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک احمدی مخلص اور سچے ثابت ہوں گے اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کا احسان ہو اور ان کی دعائیں مقبول ہوں تو ان کے ملکوں کے باقی باشندوں پر بھی اللہ تعالیٰ جیسے چاہے احسان کی نظر فر مائے لیکن یہ پیغام پہنچانا میر افرض ہے۔اب میں جو اس جال کی اصل حقیقت ہے اس کے متعلق روشنی ڈالنا چاہتا ہوں۔اسرائیل ان باتوں کے پیچھے ہے۔جو معلومات مجھے ہندوستان سے ملتی رہی ہیں ان کے مطابق اسرائیل کے گوریلے کشمیر میں بھی اور ہندوستانی فوج میں بھی جگہ جگہ پھیلے ہوئے ہیں اور اسرائیل میں ہندوستانی فوجیوں کو گوریلائٹر یننگ دینے کے مراکز بنائے گئے ہیں اور اس کے نتیجے میں کشمیر پر بے انتہا مظالم کا ایک دور آنے والا ہے کیونکہ اسرائیل کی ٹریننگ میں خود ان کی کتابوں کی رو سے جن کا میں نے گہری نظر سے مطالعہ کیا ہے، محض میرے دعوی کے طور پر نہیں ان کی کتابوں کی رو سے یہ بات داخل ہے، کہ ہم اپنے گوریلوں کو یہ لازمی تربیت دیتے ہیں کہ رحم کا نام بھی ان کو نہ پتا ہو۔ایسا تشدد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں کہ جس کے نتیجے میں تمام انسانی جذباتی قدریں پامال ہوں لیکن ان کو کوڑی کی بھی پرواہ نہ ہو۔یہ وہ ٹریننگ ہے جو ہندوستان کو دی جا چکی ہے۔اور جو پہلا خطرہ ان حالات کے بعد مجھے دکھائی دے رہا ہے وہ یہ ہے کہ دونوں طرف کی ایٹمی توانائی کے نتیجہ میں ایک دوسرے کو باندھ دیا گیا ہے کہ ایک دوسرے پر ایٹمی حملہ نہ کریں اور کشمیر میں ہندوستان جو بھی کرے وہ اس میں آزاد