خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 368
خطبات طاہر جلد 17 368 خطبہ جمعہ 29 مئی 1998ء ہی نیوکلیئر ہتھیاروں کی تیاری میں خرچ ہو گیا اور اب جبکہ تمام عالم کی طرف سے مالی پابندیاں عائد ہو چکی ہیں اب مزید جنگ کا نہ ہندوستان متحمل ہوسکتا ہے نہ پاکستان متحمل ہوسکتا ہے۔یہ وہ خطرات ہیں جو میرے سامنے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر جشن منایا جا رہا ہے تو ایک دوسرے کے ساتھ جو پرانی روایتی دشمنیاں اور مخالفتیں ہیں ان کے نتیجے میں ایک جشن منایا جا رہا ہے۔لیکن گلیوں میں بھنگڑے ڈالنا کوئی حقیقت میں معنی خیز رد عمل نہیں ہے۔ہندوستان بھنگڑے ڈالے تو ڈالےلیکن پاکستان کے لئے قرآن را ہنما تھا، رسول اللہ اللہ کریم کا اسوہ حسنہ راہنما تھا، ان کو میں سمجھتا ہوں مختلف رد عمل دکھانا چاہئے تھا لیکن سب سے زیادہ تکلیف اس بات سے ہوتی ہے کہ جو بھنگڑے ڈال رہے ہیں ان پر ہی مصیبت ٹوٹنی ہے۔یہ جو بڑے لوگ ہیں یہ اپنے پیسے پہلے ہی بیرونی دنیا میں منتقل کروا بیٹھے ہیں۔جو پاکستان کے ہمدرد ہیں بیرونی دنیا کے ہوں یا اندرونی انہوں نے پہلے اپنے پیسے یا پاکستان میں رکھے ہوئے تھے یا پاکستان کی اپیل پر کہ ہم تمہیں واپس کرنے کی اجازت دیں گے بہت سا روپیہ باہر سے اندر بھجوا دیا اور وہ بھی ٹریپ ہو گئے اب وہ باہر نہیں بھجوا سکتے۔جنہوں نے پہلے سے پیسہ باہر بھجوایا ہوا ہے وہ اندر منگوا نہیں رہے اگر وہی منگوا لیتے تو بہت بڑا مالی فائدہ ملک کو پہنچ سکتا تھا مگر اپوزیشن ہو یا حکومت ہو ان کے تعلق والے جتنے ہیں جن کا کچھ اختیار ہے ان کے متعلق جو عالمی افواہیں پہنچتی ہیں وہ یہ ہیں کہ ان کے سب کے روپے امریکہ میں یا انگلستان میں یا سوئٹزرلینڈ میں یا دوسرے ایسے ممالک میں محفوظ پڑے ہوئے ہیں۔یہ ان کا وہم ہے کہ محفوظ پڑے ہوئے ہیں وقت بتائے گا کہ جس کو یہ محفوظ سمجھتے ہیں وہ ایسا ہی ہے جیسا دودھ کو بلے کی حفاظت میں چھوڑ دیا جائے۔اگر وہ دودھ محفوظ ہے تو پھر آپ کا روپیہ محفوظ ہے۔اب کم سے کم یہ وقت تھا قومی غیرت دکھانے کا اب اس وقت آپ واپس منگوا سکتے تھے۔اگر واپس منگوا سکتے اور واپس منگوا لیتے تو اچانک ملک میں ایسی روپے کی بہتات ہوتی جس سے ساری دنیا سے مال خریدا جاسکتا ہے۔اگر ایسے روپے کی بہتات ہو جس سے ملک کے اندر مہنگائی بڑھ جائے وہ بالکل اور بات ہے۔مگر بین الاقوامی کرنسی یعنی پاؤنڈ یا ڈالرز وغیرہ ان کو منگوا لینے سے دنیا میں بے شمار ایسے ملک ہیں جو کسی پابندی کی پرواہ نہیں کریں گے اور ان کو ان پیسوں کے بدلے نقد اشیاء مہیا کر سکتے ہیں جس کی ملک کو ضرورت ہے۔یہ دولت یا اس دولت کی فراوانی کبھی بھی افراط زر کا موجب نہیں بنا کرتی۔افراط زر کا موجب ہمیشہ وہ دولت بنتی ہے