خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 365
خطبات طاہر جلد 17 365 خطبہ جمعہ 29 مئی 1998ء یہ جو جنون کا دور ہے دونوں ملکوں میں یہ تو ختم ہو جائے گا باقی بھوک رہ جائے گی۔پھر بھوک بھی فساد پیدا کرے گی اور ملک کا رہا سہا نظام بھی وہ بھو کے اپنی بغاوت کے ذریعہ تباہ کر دیں گے۔یہ وہ باتیں ہیں جو گہری نظر سے دیکھنے والی تھیں اور میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے اہل دانش ان باتوں کو پیش نظر رکھ کر یہ بات کر رہے ہیں۔دوسری بات ایٹمی تابکاری ہے۔ان دھماکوں کو محض اس کھیل کا آخری باب تصور کرنا بالکل غلط ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ تابکاری کے اثرات اب لمبے عرصے تک ظاہر ہوتے چلے جائیں گے اور ہندوستان میں جو دھماکے ہوئے تھے اس کی تابکاری کے اثرات بھی پاکستان میں محسوس ہونے لگے ہیں۔وہاں کے جو روزمرہ کے ٹمپریچر ز ہیں ، درجہ حرارت ، وہ بڑھ گئے ہیں۔اس لئے جو دھماکے ہمارے اپنے ملک کے اندر ہوئے ہیں ان کی تابکاری سے بے خوف ہونے کی کوئی بھی وجہ نہیں ہے۔بہت ہی خوفناک چیز ہے۔وہ دُھواں ہے جس کے متعلق قرآن کریم نے متنبہ فرمایا تھا کہ ایک ایسا عالمی دُھواں ہے جس کے سائے کے نیچے کوئی امن نہیں ، وہ ہلاک کرنے والا دھواں ہے اور زندگی کی ہر شکل کو ہلاک کر دے گا۔پس یہ دھواں اپنے ملک میں پیدا کر رہے ہیں اور جشن منا رہے ہیں۔ایسی پیچیدگیاں ہیں اس صورتِ حال کی کہ جن سے نپٹنا بہت مشکل کام اور بہت دوررس نگاہ کی ضرورت رکھتا ہے اور اہل دانش کو حکومت کے ہوں یا حکومت سے باہر ان سب کو سر جوڑ کر ان مسائل کو پیش نظر رکھتے ہوئے کوئی حل تجویز کرنا چاہئے۔اب جو ہو چکا وہ تو ہو چکا آئندہ کیسے ان سے نجات ملے گی یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جو اس وقت در پیش ہے۔تابکاری کے متعلق تو میں جماعت احمدیہ کو خصوصیت سے اور ان کی وساطت سے سارے پاکستان اور پھر ہندوستان کی جماعت احمدیہ اور سارے ہندوستان کو یہ مشورہ دیتا ہوں کہ ہومیو پیتھک دوا ایک ایسی موجود ہے جس کو ہم نے بارہا تجربہ کر کے دیکھا ہے، تابکاری کے اثرات ہو بھی چکے ہوں تو ان کو مٹانے میں غیر معمولی مدد کرتی ہے۔ایک دوا کا نام ہے ریڈیم برومائیڈ (Radium Bromide) اور ایک کا نام ہے کا رسی نوسن (Carcinosin)۔میں نے ان دونوں دواؤں کو کامیابی کے ساتھ استعمال کیا ہے۔ایسے مریضوں کے اوپر استعمال کی ہیں جن کو تابکاری کا ہسپتالوں میں نشانہ بنایا گیا تھا اور خطرہ تھا کہ پھر وہ ہاتھ سے نکل جائیں گے لیکن جب ان دواؤں کو ان پر