خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 364
خطبات طاہر جلد 17 364 خطبہ جمعہ 29 مئی 1998ء اسرائیل ہو یا امریکہ ہو ہندوستان کے بھوکے عوام کا پیٹ بھر سکے، یہ دھوکا ہے۔جنگ شروع کروادیں گے اور جیسا کہ قرآن کریم نے شیطان کا حال لکھا ہے کہ تیلی لگا کر پیچھے ہٹ جائے گا اور اس کے بداثرات پھر ہندوستان کو خود برداشت کرنے پڑیں گے۔یہ حماقت ہے جو وہاں کی لیڈرشپ سے سرزد ہوئی ہے اور ایٹمی دھما کہ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ پاکستان کوٹریپ (Trap) کیا جائے۔پاکستان نے جو جوابی ایٹمی دھما کہ کیا ہے اس کا پاکستان کو پوری طرح حق تھا اس میں ہرگز کوئی شک نہیں لیکن اہل عقل کا کام تھا کہ اس حق کو اپنے مفاد کے طور پر استعمال کریں، مخالف استعمال نہ کریں۔عملاً اس وقت پاکستان کا جو Census ہے اس میں ستر فیصد لوگوں نے ایٹمی دھماکے کے حق میں اور تیس فیصد نے اس کے خلاف ووٹ دیا ہے۔یہ بات درست نہیں کہ جو تیس فیصد ہیں وہ ملک کے دشمن ہیں۔ان میں بھاری تعداد ایسے دانشوروں کی ہے جن کے سامنے کئی اندیشے ہیں۔ہوسکتا ہے وہ جانتے ہوں کہ یہ سب کچھ ڈرامہ رچایا گیا ہے تا کہ پاکستان کو گھسیٹ لیں مگر اس جوابی کارروائی سے کم سے کم ایک فائدہ جو فوری طور پر پہنچتا ہوا دکھائی دیتا ہے وہ یہ ہے کہ ہندوستان کو اب ظاہری طور پر جرات نہیں ہو سکتی کہ پاکستان کو اپنے نیوکلیئر بمز کا نشانہ بنائے۔یہ جو فتح ہے اس کی خوشیاں جتنی چاہیں پاکستان والے منائیں اس کا ہر پاکستانی کو حق ہے کہ وہ یہ دوسرا راؤنڈ جیتنے کی اس لحاظ سے خوشی منائے لیکن جن لوگوں نے اس کے متعلق غور کر کے یہ اعلان کیا کہ مناسب نہیں تھا، ان کے ذہن میں ایک تو یہ بات ہو سکتی ہے کہ مالی پابندیاں عائد کرنے کا بہانہ بنایا گیا تھا پاکستان اس ٹریپ میں پڑ گیا۔ہندوستان کو اس کے بغیر بھی جرات نہیں ہو سکتی تھی کہ پاکستان کو اپنے ایٹمی ہتھیاروں کا نشانہ بنائے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا تھا۔اس لئے عملاً جوٹریپ بنایا گیا ہے، یعنی اہل دانش پاکستان کے جو بات کرتے ہیں یہ بات کرتے ہیں کہ جو ٹریپ بنایا گیا ہے اس ٹریپ کے اندر پاکستان جا پڑا اور اس کے بہت سے نقصانات جو ہیں وہ اب آہستہ آہستہ ظاہر ہوں گے۔دونوں طرف کے عوام گلیوں میں نکلے ہیں بیچارے، دونوں طرف کے عوام کو پتا ہی کوئی نہیں کہ آگے آئندہ اُن سے کیا ہونے والا ہے۔ہمیشہ ایسی صورت حال میں عوام مارے جاتے ہیں اور غریب عوام قربانی میں سب سے آگے اور مار پڑنے کے لحاظ سے بھی سب سے آگے، ان بے چاروں کا پہلے والا حال بھی نہیں رہے گا۔وقتی طور پر جشن منانا اور بات ہے مگر بھوکے پیٹ گزارہ کرنا بالکل اور بات ہے۔