خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 356
خطبات طاہر جلد 17 356 خطبہ جمعہ 22 مئی 1998ء اس تحریر کو اکثر لوگ نہیں سمجھ سکیں گے۔اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر تم چاہتے ہو کہ یہ سلسلہ جو دین کا سلسلہ ہے، انقطاع کے بغیر ہمیشہ جاری رہے، کبھی بھی اس کے کام رک نہ سکیں اور لازماً ہمیشہ یہ سلسلہ آگے بڑھتا رہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ ماہانہ با قاعدہ چندہ ادا کیا جائے اور اگر کسی اتفاقی مانع کے نتیجہ میں کوئی ایسی مصیبت ، وبال، کوئی ایسی چھٹی پڑ جاتی ہے جس کے نتیجہ میں کچھ نہیں کر سکتے تو فرما یا وقتی طور پر اس کے نتیجہ میں تم رک سکتے ہو کہ اتفاق ہو گیا آپ دینا چاہتے ہیں مگر دے نہیں سکتے۔ہاں جس کو اللہ جلشانہ توفیق اور انشراح صدر بخشے وہ علاوہ اس ماہواری چندہ کے اپنی وسعت ہمت اور اندازہ مقدرت کے موافق یکمشت کے طور پر بھی مدد کر سکتا ہے۔“ پس یہ وہ تحریک تھی جس کی وجہ سے میں نے یہ سمجھا کہ دراصل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یکمشت امداد کو اس لازمی دائگی چندے کے بعد بیان فرمارہے ہیں۔یہ وجہ تھی جو میں نے لازمی چندہ نہ دینے والوں سے یکمشت امداد لینی بند کر دی۔جو ایسا کرتے ہیں وہ اس کے علاوہ یکمشت دیں تو بہت اچھی بات ہے۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وہ فقرے سنیں جو اس آیت کریمہ کی یاد دلاتے ہیں هانتُم هؤلاء - خدا جس طرح آپ سے مخاطب ہے فَانْتُمْ هُؤُلاءِ اسی رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آپ سے مخاطب ہوتے ہوئے فرماتے ہیں: اور تم اے میرے عزیزو! میرے پیارو! میرے درخت وجود کی سرسبز شاخو!“ سبحان اللہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آپ میں سے ہر ایک قربانی کرنے والے کو یہ مرتبہ عطا کر رہے ہیں۔فرماتے ہیں : ” میرے درخت وجود کی سرسبز شاخو! جو خدا تعالیٰ کی رحمت سے جو تم پر ہے میرے وو سلسلہ بیعت میں داخل ہو۔“ یہ سلسلہ بیعت میں داخل ہونا بھی اللہ کی رحمت کی نشاندہی کرتا ہے۔یہ نہ سمجھو کہ میرےسلسلہ بیعت میں داخل ہو کے گویا تم نے مجھ پر احسان کر دیا۔وہ شاخیں جو شجر کے ساتھ رہتی ہیں شجر کا ان پر احسان ہوتا ہے۔ان شاخوں کا شجر پر احسان نہیں ہوا کرتا۔شجر کے ساتھ وابستہ ہیں تو سرسبز رہیں گی، جو نہی الگ ہو ئیں وہ خشک پتوں اور خشک ٹہنیوں میں تبدیل ہو جائیں گی۔پس فرمایا :