خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 355
خطبات طاہر جلد 17 355 خطبہ جمعہ 22 مئی 1998ء اب دیکھا حضرت اقدس علیہ السلام کی تحریر کے اندر کتنے لطیف پہلو شامل ہوتے ہیں جوسرسری سے دکھائی نہیں دے رہے ہوتے۔فرمایا ان کے سارے پہلوؤں کو بنظر عزت دیکھ کر۔“ جب آپ کسی مقصد کو عزت کی نظر سے دیکھیں تو اس پر جو خرچ کریں اس میں اپنی عزت پاتے ہیں۔پس فرمایا کہ تمہاری عزت ہو گی اگر تم ان مقاصد کو بنظر عزت دیکھو گے۔بہت جلد حق خدمت ادا کرنا چاہئے۔جو شخص اپنی حیثیت کے موافق کچھ ماہواری دینا چاہتا ہے وہ اس کو حق واجب اور دین لازم کی طرح سمجھ کر خود بخود ماہوار اپنی فکر سے ادا کرے۔“ حق واجب تو صاف لفظ ہے سب کو سمجھ آ گیا ہو گا۔”دین لازم سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے اوپر قرضہ سمجھے۔ایسا قرضہ جس کو بہر حال چکانا ہے۔اس کے نزدیک ہر قرضہ سے بڑھ کر یہ قرضہ ہو جسے اس کو چکانا ہی چکانا ہے۔اور اس فریضہ کو خالصہ اللہ نذر مقرر کر کے اس کے ادا میں مختلف یا سہل انگاری کو روانہ رکھے۔“ فرمایا یہ فریضہ جس کو فریضہ فرمایا گیا ہے خالصہ اللہ نذر مقرر کرے۔یہ نذر جو ہے کسی بندے کی نذر نہیں اور جماعت بھی غائب ہو گئی بیچ میں سے فرمایا اللہ کی نذر کرے۔جو اس نیت سے خرچ کرتے ہیں کہ گویا براہ راست وہ اللہ کے حضور ایک نذرانہ پیش کر رہے ہیں ان کو آئندہ بہت خرچ کی توفیق ملتی ہے۔ان کی خدمتیں ان پر آسان ہو جاتی ہیں کیونکہ اللہ کی محبت کے نتیجہ میں اگر کچھ نذر کریں گے تو محبت اس راہ کی مشکلوں کو دور فرمادے گی۔پھر فرمایا: اور جو شخص یکمشت امداد کے طور پر دینا چاہتا ہے وہ اسی طرح ادا کرے لیکن یادر ہے کہ اصل مدعا جس پر اس سلسلہ کے بلا انقطاع چلنے کی امید ہے وہ یہی انتظام ہے کہ بچے خیر خواہ دین کے اپنی بضاعت اور اپنی بساط کے لحاظ سے ایسی سہل رقمیں ماہواری کے طور پر ادا کرنا اپنے نفس پر ایک حتمی وعدہ ٹھہر الیں جن کو بشرط نہ پیش آنے کسی اتفاقی مانع کے بآسانی ادا کر سکیں۔“