خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 357 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 357

خطبات طاہر جلد 17 357 خطبہ جمعہ 22 مئی 1998ء ” میرے پیارو! میرے درخت وجود کی سرسبز شاخو! جو خدا تعالیٰ کی رحمت سے جو تم پر ہے میرے سلسلہ بیعت میں داخل ہو اور اپنی زندگی، اپنا آرام، اپنا مال اس راہ میں فدا کر رہے ہو۔“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی روح کتنی خوش ہوگی آج ہزاروں لاکھوں ایسے جماعت میں شامل لوگوں کو دیکھ کر جو بعینہ اس بیان کے مطابق دین کی راہ میں قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔66 اپنی زندگی، اپنا آرام، اپنا مال اس راہ میں فدا کر رہے ہو۔“ اب یہ فقرہ سننے کے لائق ہے۔اگر چہ میں جانتا ہوں کہ میں جو کچھ کہوں تم اسے قبول کرنا اپنی سعادت سمجھو گے اور جہاں تک تمہاری طاقت ہے دریغ نہیں کرو گے لیکن میں اس خدمت کے لئے معین طور پر اپنی زبان سے تم پر کچھ فرض نہیں کر سکتا۔“ یہ وجہ ہے جو میں اپنی تحریکات میں اس زمانہ میں جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ توقع آپ کی ذات سے بڑی شان سے پوری ہورہی ہے، یہی وجہ ہے کہ میں معین طور پر آپ سے بعض تحریکات کے متعلق نہیں کہا کرتا کہ اتنا پیش کرو۔تحریک کا اندازہ تو میں کئی دفعہ پیش کر دیتا ہوں مگر بعض تحریکات کے متعلق آپ کو علم نہیں ہے کہ میں وہ تحریکات بھی آپ کے سامنے پیش نہیں کرتا تا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس فرمان کے اوپر پورا اتروں اور بہت سی ایسی تحریکات ہیں جو پیش نہیں کی گئیں مگر خدا نے ان کی ضرورت سے بڑھ کر عطا کر دیا اور حیرت ہوتی ہے یہ سوچ کر کہ دل میں خیال آیا یہ خدمت دین ضروری ہے اور اسی دن یا اس کے بعد دوسرے دن دور و نزدیک سے خطوط آنے شروع ہوئے کہ ہماری خواہش ہے کہ اس قسم کی خدمت پر آپ جس طرح چاہیں خرچ کریں۔پس ایسی بھی بہت سی تحریکات ہیں جو کسی حساب کتاب میں درج نہیں ہیں مگر خدا کے حساب میں درج ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اگر چہ میں جانتا ہوں کہ میں جو کچھ کہوں تم اسے قبول کرنا اپنی سعادت سمجھو گے اور جہاں تک تمہاری طاقت ہے دریغ نہیں کرو گے لیکن میں اس خدمت کے لئے معین طور پر اپنی زبان سے تم پر کچھ فرض نہیں کر سکتا تا کہ تمہاری خدمتیں نہ میرے کہنے کی مجبوری سے بلکہ اپنی خوشی سے ہوں۔“