خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 329
خطبات طاہر جلد 17 329 خطبہ جمعہ 15 مئی 1998ء احمدیوں کے لئے اس میں خصوصیت سے یہ سبق ہے کہ ان کے پاس اس کثرت سے اس دور میں نشان آئے ہیں کہ ان کے ڈگمگانے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔آئے دن اللہ تعالیٰ اپنے تازہ نشان آپ کو دکھاتا ہے اور اس کے باوجود اگر خدانخواستہ آپ کے قدم ڈگمگا ئیں تو بہت بڑی محرومی ہوگی۔ان آیات کی تشریح کے طور پر میں حضرت اقدس محمد مصطفی سایتا پریتم کی ایک حدیث اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض اقتباسات آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔سنن الترمذی سے یہ حدیث لی گئی ہے۔انس بن مالک سے روایت ہے کہ : عہد نبوی میں دو بھائی تھے ان میں سے ایک آنحضرت ملائیشیا کی ستم کے حضور حاضر رہتا تھا۔“ میں نے خصوصیت سے اس لئے یہ حدیث چنی ہے کہ بعض لوگوں کے ذہن میں صرف حضرت ابو ہریرہ کا نام آتا ہے کہ گویا وہی رہتے تھے مسجد میں۔ابوہریرہ تو دن رات وہیں رہتے تھے باہر نکلتے ہی نہیں تھے مگر بکثرت ایسے صحابہ تھے جو جتنا بھی ان کو وقت میسر ہو وہ آنحضرت سالی ایم کی خدمت میں رہا کرتے تھے اور ابوہریرہ کے علاوہ بھی بعض ان میں سے ایسے تھے جنہوں نے اپنا روزمرہ کا کام چھوڑ دیا تھا یعنی بظاہر نگھے تھے کچھ کمانے والے نہیں تھے۔حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ: آنحضرت صلی ایتم کی خدمت میں ایک بھائی حاضر رہتا تھا اور دوسرا کام میں مصروف رہتا تھا۔کام کرنے والے نے آنحضرت صلی ا یہ تم سے اپنے بھائی کی شکایت کی۔“ کہ مجھ اکیلے پر ہی بوجھ ڈالا ہوا ہے۔ہر وقت یہ آپ مسی یا پی ایم کے پاس بیٹھا رہتا ہے اور میں اکیلا گھر چلانے کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہوں۔آنحضور صل وسلم نے فرمایا : لَعَلَّكَ تُرزَقُ بِهِ: کیا خبر عین ممکن ہے کہ تجھے جو رزق عطا کیا جارہا ہے اس کے سبب سے ہو۔“ (جامع الترمذي، أبواب الزهد، باب في التوكل على اللہ۔۔۔،حدیث نمبر : 2345) بہت عظیم الشان ایک ستر وابستہ ہے اس حدیث میں، ایک ستر چھپا ہوا ہے اور وہ سب خدمت دین کرنے والوں کے لئے اور ان کے خاندانوں کے لئے ہے اور اسی طرح ان واقفین زندگی کے لئے ہے جنہوں نے کلیہ اپنے آپ کو خدا کے حضور پیش کر دیا ہے۔بہت سے ان کے خاندان والے،