خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 330 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 330

خطبات طاہر جلد 17 330 خطبہ جمعہ 15 مئی 1998ء رشتہ دار یہ سمجھتے ہوں گے کہ ہم ان پر احسان کر رہے ہیں ، ہم نے ان کے بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں، ان کے بیوی بچوں کا خیال رکھتے ہیں اور اسی طرح آج جماعت جرمنی میں بکثرت ایسے بڑے اور بچے اور جوان اور عورتیں ہیں جن کو اپنے گھروں کی ہوش نہیں اور جو کلیۂ دین کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں واقعہ ان میں سے بعض کے بھائی یا اقرباء سمجھتے ہیں کہ ہم ان کی خدمت کر رہے ہیں گویا کہ ہم نے ان کے بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں۔حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی لا یتیم کے اس فرمان کو پہلے باندھ لو کہ تمہیں کیا پتا کہ تمہارے رزق میں ان کی وجہ سے برکت ہے۔اگر یہ دین کی خدمت چھوڑ دیں تو پھر دیکھنا کہ تمہارا کیا حال باقی رہ جاتا ہے۔اور رسول اللہ لی ایم کا یہ فرمان جیسا اس وقت سچا تھا ویسا ہی آج بھی سچا ہے۔بعینہ اپنی پوری شان کے ساتھ آج کے زمانہ کے خدمت کرنے والوں پر بھی اور ان کے رشتہ داروں پر بھی اطلاق پاتا ہے۔پس تیری نَفْسَهُ میں یہ سارے لوگ داخل ہیں جنہوں نے اپنی جانیں بیچ ڈالیں۔اللہ تعالیٰ ان کو بہترین جزادے اور ان کے اعزاء اور اقرباء کے دماغ میں و ہم تک بھی نہ گزرے کہ ان کی وجہ سے ان کے خاندانوں کو کوئی نقصان پہنچ رہا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسی آیت کی مختلف تشریحات پیش فرماتے ہیں ، مختلف تحریروں میں آپ نے مختلف پہلوؤں پر زور دیا ہے۔مثلاً فرمایا: یعنی انسانوں میں سے وہ اعلیٰ درجہ کے انسان ہیں جو خدا کی رضا میں کھوئے جاتے ہیں۔اپنی جان بیچ دی تو باقی کیا رہا ان کے پاس۔وہ دنیا سے غائب ہو جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی ذات اور اس کی یاد میں کھوئے جاتے ہیں۔وہ اپنی جان بیچتے ہیں اور خدا کی مرضی کو مول لیتے ہیں۔“ یہ مول لیتے ہیں بہت پیارا اظہار ہے یعنی فرمایا کہ جیسے سودا کرنے والے کو جو وہ خرچ کرتا ہے اس کے نتیجے میں وہ سودا دیا جاتا ہے جس کی خاطر وہ خرچ کرتا ہے۔تو مول لیتے ہیں سے مراد یہ ہے کہ اللہ کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اپنی رضا سے ان کو تمتع فرمائے کیونکہ گویا انہوں نے اس کی رضا خرید لی۔اب اللہ سے تو کوئی ویسے سودا نہیں کر سکتا ، اس کی رضا خریدی نہیں جاسکتی مگر جب وہ خود کہے کہ کون ہے جو میری رضا خرید نے والا ہے اور کچھ لوگ اس کے جواب میں آگے بڑھیں اور کہیں ہم ہیں تیری رضا خریدنا چاہتے ہیں تو پھر کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اس ادعا سے پیچھے ہٹ جائے وہ لازماً اپنی رضا ان کو عطا فرماتا ہے۔