خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 322 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 322

خطبات طاہر جلد 17 322 خطبہ جمعہ 8 مئی 1998ء اٹھتا ہے اُن کے فکر میں مبتلا ہوتے ہیں اور اُن کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔یہی جذبہ حضرت اقدس محمد مصطفی سلام کی زندگی میں ہمیں صحابہ میں کار فرما دکھائی دیتا ہے اور بکثرت احادیث میں گواہیاں موجود ہیں کہ رسول اللہ سی کی ہم کسی کی ابتدائی حالت دیکھ کر اس پر رحم فرمایا کرتے تھے اور دعا کیا کرتے تھے، تمنا کرتے تھے کہ یہ ادنیٰ سے اعلیٰ حالتوں کی طرف منتقل ہو۔یہ وہ جذ بہ کاملین ہے جو طبیعت میں داخل ہو جائے۔جب تک داخل نہ ہو جائے ، اس کا جز نہ بن جائے اس وقت تک ایسے سالک کو امن سے نہیں بیٹھنا چاہیئے۔اس کے بعد پھر کیا ہوگا۔اور وہ مشکوتی نور دل میں پیدا ہو جاوے۔“ وہ مشکوۃ جس کا قرآن کریم میں ذکر ہے مَثَلُ نُورِہ۔( النور : 36) اسی مشکوۃ کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ حضرت محمد مصطفی سالی یہ تم کو یادرکھو وہ نور ہیں جس کے متعلق قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ یہ ایک مشکوۃ کی طرح ہے جس میں اللہ کا نور چمک رہا ہے۔فرماتے ہیں کہ : ”جو عبودیت اور ربوبیت کے باہم تعلق شدید سے پیدا ہوتا ہے۔“ اب دیکھیں زبان مشکل لیکن مضمون کتنا حقیقی اور یقینی اور واضح ، اپنی ذات میں واضح ہونا چاہئے مگر سمجھانے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو چھوٹے لفظوں میں بیان کرنے کی خاطر یہ اصطلاحیں بیان فرمانی پڑتی ہیں۔یہ مشکوتی نور کیسے دل میں پیدا ہوتا ہے۔”جو عبودیت اور ربوبیت کے باہم تعلق شدید سے پیدا ہوتا ہے۔عبد کو اپنے رب سے اگر بہت گہرا تعلق ہو جیسا کہ رسول اللہ سینما کی یتم عبد کامل اور اللہ الرب۔تو یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اللہ کا نور عبد کے دل میں منتقل نہ ہو جائے۔تو نوروں کے حصول کے رستے دکھا دئے ہیں ورنہ دور کی باتیں تھیں۔اب دیکھو کتنا ان باتوں سے انسان حقائق کے قریب تر ہوتا چلا جاتا ہے۔جس کو متصوّفین دوسرے لفظوں میں روح قدس بھی کہتے ہیں۔“ یہ جو کیفیت ہے کہ دل میں نور جاری ہو جائے اور عبد اور رب کا تعلق ہو جائے اس کیفیت کو جو تصوف والے لوگ ہیں وہ روح قدس بھی کہتے ہیں۔اب یہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے الروح القدس کی بات نہیں فرمائی ہے جو فرشتہ کا نام ہے۔فرمایا اس حالت کو تصوف والےلوگ روح قدس بیان کرتے ہیں کہ روح سچی ہوگئی اس شخص کی اپنی روح سچی ہو جاتی ہے۔