خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 323 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 323

خطبات طاہر جلد 17 323 خطبہ جمعہ 8 مئی 1998ء جس کے پیدا ہونے کے بعد خدا تعالیٰ کی نافرمانی ایسی بالطبع بری معلوم ہوتی ہے کہ جیسی وہ خود خدا تعالیٰ کی نظر میں بری و مکروہ ہے۔“ روح قدس کی تعریف یہ ہے کہ مزاج اتنا اللہ سے مل گیا کہ جس چیز کو اللہ برا دیکھتا ہے اس کو یہ بھی برا دیکھتا ہے اور طبیعت میں کتنی آسانی سے گناہ سے نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔جب تک گناہ مکروہ دکھائی نہ دے اور برانظر نہ آئے اس وقت تک اس سے بچنے کی کوشش بڑا مشکل کام ہے۔وہ لازماً اپنی طرف کھینچے گا۔فرما یا اس روح کامل کے حصول کی کوشش کرو جو عبد سے اپنے رب کی سچی محبت کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔یہ ہو تو اگلا کام خدا کا کام ہے پھر تمہیں کسی کوشش سے اس مقام کو حاصل کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، جو محبت کے نتیجے میں خود بخود حاصل ہو جائے گا اور ایک نور آسمان سے تمہارے دل پر اترے گا اور تمہاری فطرت کو پاک کر دے گا۔اور فطرت کی پاکیزگی کا مطلب ہے اللہ قدوس ہے تو تم بھی قدوس ہو ایک جیسے ہو جاؤا اپنی چاہتوں میں ، اپنی نفرتوں میں ایک جیسے ہو جاؤ۔وہ خود خدا تعالیٰ کی نظر میں بری و مکروہ ہے اور نہ صرف خلق اللہ سے انقطاع میسر آتا ہے - بلکه بجز خالق و مالک حقیقی ہر یک موجود کو کالعدم سمجھ کر فنا نظری کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔“ (ازالہ اوہام حصہ دوم، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ:559،558 حاشیہ) یعنی جب یہ حالت پیدا ہو تو اللہ تعالیٰ کے سوا جو خالق و مالک حقیقی ہے دوسرے تمام وجود گویا نظر سے غائب ہو جاتے ہیں انکی حقیقت ہی کوئی نہیں رہتی ، عدم میں ڈوب جاتے ہیں یعنی دنیا موجود تو رہتی ہے لیکن ان کی اہمیت ایک ذرہ بھی نہیں رہتی کہ وہ خدا کے مقابل پر اس کو اہمیت دیں۔وہ پھرتے ہیں سرسری نظر سے دنیا کو دیکھ رہے ہیں۔اس کے حسن کا بھی ملاحظہ کرتے ہیں مگر وہ حسن ان کو اپنی جانب نہیں کھینچ سکتا کہ خدا سے ہٹ کر مل جائیں۔ابھی مضمون باقی ہے اور وقت ختم ہو گیا ہے انشاءاللہ اس مضمون سے آئندہ شروع کریں گے اور پھر اگلی آیات۔