خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 321
خطبات طاہر جلد 17 321 خطبہ جمعہ 8 مئی 1998ء کے مشکل لفظ ہیں اور ایسے مشکل لفظ ہیں جو بسا اوقات علماء کے لئے بھی سمجھنا مشکل ہوتے ہیں اس لئے میں عرض کر دیتا ہوں کیا مطلب ہے۔وہ تقویٰ کہ جو اول حالت میں تکلف اور تصنع سے اختیار کی جاتی ہے۔پہلے تو یہ سوچنے والی بات ہے کہ تقویٰ کو مذکر بھی بیان فرما یا مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اور مؤنث بھی۔تقویٰ جو حقیقی تقویٰ اور آخری تقویٰ ہے وہ مذکر ہی کہلاتا ہے یعنی جو تقویٰ کی حالت ہے اصل تقویٰ نہیں اسے مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مؤنث میں استعمال فرما رہے ہیں کیونکہ آغاز میں جو ترقی کے لئے تقویٰ ضروری ہوا کرتا ہے جیسا هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (البقرة:3) فرمایا گیا یہ تقویٰ وہ تقویٰ نہیں ہے جو اس کوشش اور جدوجہد کے بعد نصیب ہوگا جو ابتدائی تقویٰ انسان کو عطا ہوتا ہے یعنی جد و جہد اور کوشش ایک تقویٰ کی ابتدائی حالت کا نام ہے۔پس اس حالت کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہ یہ ایک حالت ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کو تانیث میں بیان فرماتے ہیں۔چنانچہ بچے تقویٰ میں تصنع ہو ہی نہیں سکتا۔بچے تقویٰ میں تکلف کیسا۔تو تکلف اور تصنع کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ قرآنی اصطلاح تقویٰ کی بات نہیں ہو رہی بلکہ قرآنی اصطلاح اس تقوی کی بات ہو رہی ہے جو ایک حالت کا نام ہے جو تکلف اور تصنع سے اختیار کرنی پڑتی ہے تا کہ بالآخر اس کوشش کے نتیجے میں آخری تقویٰ نصیب ہو جائے۔فرمایا اول حالت میں تصنع سے اختیار کی جاتی ہے دوسرا رنگ پکڑے۔یہ دوسرا رنگ ہے جس میں اصل راز چھپا ہوا ہے۔یہ تکلف والا تقویٰ جب تک دوسرا رنگ نہ پکڑے یعنی وہ تقویٰ کا رنگ جس کو قرآن کریم کی اصطلاح میں ایک مذکر کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور اُردو میں بھی ہم ہمیشہ مذکر ہی استعمال کرتے ہیں، جب تک یہ ابتدائی حالت اُس حالت میں تبدیل نہیں ہو جاتی جو تقویٰ کا دوسرا رنگ ہے اس وقت تک یہ جد و جہد جاری رہنی چاہئے۔اور برکت تو جہ صادقین و جذ بہ کاملین طبیعت میں داخل ہو جائے۔“ یہ جو دوسرا رنگ ہے اس کو طبیعت میں داخل کرنے کے لئے صادقین کی توجہ ضروری ہوا کرتی ہے۔”جذ بہ کاملین اور جو کامل لوگ ہیں ان کا جذبہ ہے جس کے نتیجے میں یہ دوسرارنگ دل پر نقش ہو جاتا ہے اور دل پر قبضہ جمالیتا ہے۔یہ صادقوں کی برکت اور کاملین کے جذبہ کی وجہ سے ہے۔اب یہاں جذ بہ کیسا؟ کاملین جب ایسے شخص کو جد و جہد میں مبتلا دیکھتے ہیں تو اُن کے دل میں ایک غیر معمولی محبت کا جذبہ اُن کے لئے