خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 319 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 319

خطبات طاہر جلد 17 319 خطبہ جمعہ 8 مئی 1998ء پکڑ لیتا ہے اور وہ ساری زندگی فخر سے دکھاتا پھرتا ہے کہ یہ اتنی بڑی مچھلی میں نے پکڑی تھی۔ وہ مچھلی تو نہیں دکھا سکتا مگر اس کا ڈھانچہ بنا کر دیواروں پہ سجا لیتا ہے۔ پس اس کو مستقیم جستجو کہتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرما رہے ہیں کہ پاک ارادہ ہو پھر جستجو بھی مستقیم ہو۔ میں جو کہتا ہوں کہ خدا مجھے نشان دکھاتا ہے تو ایک مچھلی پکڑنے والے، ایک نشان تلاش کرنے والی پولیس سے زیادہ خدا کی قیمت اس کے دل میں میں : ہونی چاہئے ۔اتنے بڑے ے وجو وجود کی باتیں میں کر رہا ہوں اور آیا اور چلا گیا یہ تو بڑی بے وقوفی ہے۔ تو بیٹھا رہے، دیکھتا رہے ، غور کرے کہ کون سا نشان ظاہر ہورہا ہے۔ جب وہ غور کی آنکھ کے ساتھ دیکھے گا تو اس کو کثرت سے نشان دکھائی دینے لگیں گے " ۔ تو! تو یقین کامل ۔ ہے کہ وہ دہر یہ بھی ہو تو آخر خدا تعالیٰ کے وجود پر ایمان لے آئے گا کیونکہ صادق کا وجود خدا نما وجود ہوتا ہے۔“ وہ اس وجود میں اللہ کو دیکھ لیتا ہے۔ انسان اصل میں انسان ہے یعنی دو محبتوں کا مجموعہ “ 66 اُنس کہتے ہیں پیار کو، مجھے اس سے اُنس ہے۔ تو فرمایا لفظ انسان در اصل انسان تھا جو کثرت استعمال سے انسان میں بدل گیا۔ یہ عربی کا قاعدہ ہے کہ کثرت استعمال کے ساتھ جو مشکل حرکات ہیں وہ آسان حرکات میں بدلتی رہتی ہیں۔ سب سے آسان حرکت زیر کی حرکت ہے۔ اُنس میں جو پیش کی حرکت ہے یہ سب سے مشکل ہے، اس کے بعد زبر کی حرکت، اس سے کم مشکل پھر زیر کی حرکت سب سے آسان تو یہ لفظ دراصل انس تھا جو انسان میں تبدیل ہو گیا لیکن معنی وہی رکھتا ہے دو محبتوں کا مجموعہ۔ ایک انس وہ خدا سے کرتا ہے دوسرا اُنس انسان سے ۔ چونکہ انسان کو تو اپنے قریب پاتا اور دیکھتا ہے اور اپنی ہی نوع کی وجہ سے اس سے جھٹ پٹ متاثر ہو جاتا ہے۔“ فطرت میں تو اللہ کا انس بھی ہے اور بندوں کا اُنس بھی ہے لیکن اللہ ہر شخص کو قریب دکھائی نہیں دے سکتا مگر فر ما یا انسان جو اپنی جنس کا ہے اس کو انسان فوراً دیکھتا ہے اور اپنے ہم جنس ہونے کی وجہ سے اس سے متاثر ہوتا ہے۔ پس جو بھی چیز قریب ہے۔ وہ ضرور اپنا اثر دکھاتی ہے اور جو دور ہے وہ رفتہ رفتہ اپنا اثر کھو دیتی ہے یا اثر ہے تو واضح طور پر محسوس نہیں ہوتا۔ پنجابی میں لوگ کہتے ہیں نہایت بے ہودہ مثال ہے کہ خدا نیڑے کہ ٹھسن ۔ تم جو خدا سے ڈرتے پھرتے ہو دیکھونزدیک کیا ہے۔ مکا نزدیک ہے یا اللہ نزدیک ہے۔ تو بڑی جاہلانہ بات ہے مگر اس بات میں بھی صداقت ضرور ہے