خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 320 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 320

خطبات طاہر جلد 17 320 خطبہ جمعہ 8 مئی 1998ء کیونکہ آج پاکستان میں اکثر لوگ جو ہمیں دکھائی دے رہے ہیں یا دوسرے ممالک میں وہ گھٹن سے ڈرتے ہیں ، اللہ سے نہیں ڈرتے۔خواہ اللہ پر یقین بھی رکھتے ہوں۔یہ مسئلہ ہے جو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان فرمارہے ہیں: ” اپنی ہی نوع کی وجہ سے اس سے جھٹ پٹ متاثر ہو جاتا ہے اس لئے کامل انسان کی صحبت اور صادق کی معیت اسے وہ نور عطا کرتی ہے جس سے خدا کو دیکھ لیتا ہے اور گناہوں سے بچ جاتا ہے۔“ اب صادق کی معیت میں اگر وہ سچی معیت ہے تو جس وجود کو دیکھ رہا ہے وہ خدا نما ہوتا ہے وہاں نظر ٹھہر نہیں جاتی۔یہ باتیں میں پہلے بھی کھول چکا ہوں کہ ایسے لوگ جو پیر پرستی کا رجحان رکھتے ہیں وہ صادق کی صحبت اختیار کرنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے۔ان کو صرف پیر ہی دکھائی دیتا ہے اور اگر وہ سچا تھا بھی تو خدا کی طرف اس کی انگلیاں نہیں اٹھ رہی ہوتیں۔اگر اٹھتی ہیں تو یہ بیوقوف اپنی پیر پرستی کے رجحان کی وجہ سے ان کو دیکھ نہیں سکتا۔تو وہاں جا کے نظر ٹھہر گئی جو مقصود نہیں ہے اس سے نظر اوپر اٹھنی چاہئے تھی تو دونوں کی سچی تعریف فرما دی۔صادق بھی وہ جس کی معیت سے اسے وہ نور عطا ہو جو خدا دکھا دے اور طلبگار بھی مستقیم جستجو کے ساتھ طلب کرنے والا خدا کو اس وجود میں دیکھے، نہ کہ صرف اس وجود پر نظر ٹھہر جائے۔فرمایا: اور گناہوں سے بچ جاتا ہے۔“ الحکم جلد 5 نمبر 44 صفحہ:11، مؤرخہ 30 نومبر 1901ء) اب گناہوں سے بچنے کا طریق کیا ہے۔جب آپ دیکھ رہے ہیں ایک دیکھنے والے کو جو آپ کے حال سے باخبر ہے تو لازم ہے کہ آپ گناہوں سے بچیں۔پھر فرمایا: یا درکھنا چاہئے کہ بیعت اس غرض سے ہے کہ تا وہ تقویٰ کہ جو اؤل حالت میں تکلف اور تصنع سے اختیار کی جاتی ہے دوسرارنگ پکڑے اور برکت تو جہ صادقین و جذ بہ کاملین طبیعت میں داخل ہو جائے اور اس کا جز بن جائے۔“ یہ عبارت مشکل عبارت ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بعض دفعہ ایسی اصطلاحیں استعمال فرمانے پر مجبور ہوتے ہیں جو تھوڑے لفظوں میں زیادہ بات لوگوں تک پہنچا سکیں۔تو یہ عربی