خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 308
خطبات طاہر جلد 17 308 خطبہ جمعہ 8 مئی 1998ء اور تقویٰ کا مضمون انسان راستبازوں سے ان کی گفتگو کے ذریعہ بھی سیکھتا ہے لیکن یہاں پہلی بات جو قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ بیٹھتا ہے تو صدق اس میں کام کرتا ہے۔یہ امر واقعہ ہے اس کو ہم نے بہت تجربہ کر کے دیکھا ہے کہ جب کسی نیک انسان کے پاس بیٹھو تو اس کے نیک خیالات دل پر اثر کر رہے ہوتے ہیں۔بچپن میں اکثر صحابہ کی صحبت میں بیٹھنے کا موقع ملا ہے اور کئی ایسے صحابہ تھے جو خاموش رہا کرتے تھے اور ان کے پاس بیٹھنے سے دل میں نیکی ترقی کرتی تھی اور خدا تعالیٰ کی طرف دل کا رجحان بڑھتا تھا۔تو یہ خاموشی بھی بولتی ہے لیکن اس کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ مضمون بھی بیان فرماتے ہیں کہ جب پھر صدق والا باتیں کرتا ہے تو انسان ان سے بھی بہت فائدہ اٹھاتا ہے۔پس جوراستبازوں کی صحبت کو چھوڑ کر بدوں اور شریروں کی صحبت کو اختیار کرتا ہے تو ان میں بدی اثر کرتی جاتی ہے۔یہ بھی میں بارہا بیان کر چکا ہوں۔حضرت خلیفتہ اسی الاول کے حوالے سے بھی کہ آپ نے ایک شخص کو جس کے دل میں دہر یا نہ خیالات پیدا ہو رہے تھے نماز میں جگہ بدلنے اور بعض دوستوں سے پر ہیز کی نصیحت فرمائی اور انہوں نے بعد میں عرض کیا کہ بالکل دل ٹھیک ہو گیا ہے۔تو ایک بد خیال کا آدمی ضرور بداثر کرتا ہے۔فرماتے ہیں: اسی لئے احادیث اور قرآن شریف میں صحبت بد سے پر ہیز کرنے کی تاکید اور تحدید پائی جاتی ہے۔“ صحبت بد سے جتنا دور بھا گواتنا بہتر ہے۔تحدید کا مطلب ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک انذار ہے، ڈراوا ہے اگر تم بروں کی صحبت میں بیٹھنے سے باز نہ آئے تو لازماً تمہارا بدانجام ہوگا۔اور لکھا ہے کہ جہاں اللہ اور اس کے رسول صلی ا یہ تم کی اہانت ہوتی ہو اُس مجلس سے۔فی الفور اٹھ جاؤ ورنہ جو اہانت سن کر نہیں اٹھتا اس کا شمار بھی ان میں ہی ہوگا۔“ اس مضمون کو میں پہلے بھی کھول چکا ہوں کہ جہاں اہانت ہوتی ہو وہاں سے فی الفور اٹھ جاؤ مگر یہ ہو کیسے سکتا ہے کہ اہانت والی مجلس میں دوبارہ جانے کا بھی خیال ہو۔یہ مضمون آگے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پھر بھی کھول رہے ہیں ، پہلے بھی میں نے بیان کیا تھا اب بھی یہ بیان کر رہا ہوں کہ یہ ہمارے لئے بہت ہی ضروری مضمون ہے۔اسے شدت کے ساتھ اور پورے خلوص کے ساتھ اپنی زندگی میں رائج کرنا چاہیئے اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کو اصلاح کی بہت توفیق ملے گی۔فرماتے ہیں: