خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 309
خطبات طاہر جلد 17 309 خطبہ جمعہ 8 مئی 1998ء صادقوں اور راستبازوں کے پاس رہنے والا بھی ان میں ہی شریک ہوتا ہے اس لئے کس قدر ضرورت ہے اس امر کی کہ انسان کكُونُوا مَعَ الصُّدِقِيْنَ کے پاک ارشاد پر عمل کرے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ملائکہ کو دنیا میں بھیجتا ہے۔“ فرشتوں کو دنیا میں بھیجتا ہے۔یہ بھیجنا کیا معنی رکھتا ہے؟ اس کی تفصیل میں یہاں جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ کوئی ایسے روحانی وجود نہیں ہیں جو جسمانی بھی ہوں اور ایک جگہ سے دوسری جگہ حرکت کرتے ہوں۔یہ بہت ہی لطیف مضامین ہیں جن کو سمجھنا عام انسان کے بس کی بات نہیں لیکن آنحضور صلی ا ہم نے ہمیں سمجھانے کی خاطر ایسی زبان استعمال فرمائی ہے جسے ہم سمجھ سکتے ہیں۔جیسے کوئی اوپر سے اتر کے نیچے آیا ہے کسی مجلس میں آ کے بیٹھ گیا ہے۔فرشتے اس قسم کی حرکت تو نہیں کرتے اور یہ مضمون حضور اکرم سال پیہم نے دوسری جگہ کھولا ہوا ہے اور قرآن کریم نے اس پر بہت روشنی ڈالی ہے لیکن ان لفظوں کو جیسا کہ میں بیان کر رہا ہوں حضور اکرم صل للہ ایم کے الفاظ سمجھتے ہوئے کہ حضور اکرم صلی لہ الی یوم کے الفاظ ہیں ان کے نتیجے میں جو دل پر اثر ہوتا ہے اسے سمجھیں۔ظاہری منظر کی تفصیل میں اور وہموں میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔اب سنیں : وہ پاک لوگوں کی مجلس میں آتے ہیں اور جب واپس جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اُن سے پوچھتا ہے۔اب واپس جاتے ہیں“ کی تشریح اس لئے ضروری تھی کہ خدا تو وہاں بھی ہے جہاں پاک لوگ ہیں۔خدا تعالیٰ کو تو اُن سب باتوں کا علم ہے جو وہاں ہورہی ہیں تو واپس کہاں جاتے ہیں۔یہ صرف ایک نظارہ ہے جسے انسان بہتر سمجھ سکتا ہے۔اس لئے ان کا صعود بھی وہیں ہوتا ہے جہاں وہ مجلس ہو اور روحانی صعود ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ کی ذات کی طرف حرکت کرتا ہے جو دو ہیں موجود ہوتا ہے۔بہر حال اب اس تشریح کے بعد اس کو سنیں بہت ہی دلچسپ اور بہت ہی دل پہ گہرا اثر کرنے والی نصیحت ہے۔فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے کہ تم نے کیا دیکھا۔وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ایک مجلس دیکھی ہے جس میں تیرا ذکر کر رہے تھے مگر ایک شخص ان میں سے نہیں تھا۔( یعنی ایک شخص ایسا تھا جو ذکر کرنے والوں میں سے نہیں تھا۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نہیں وہ بھی اُن میں 66 ہی سے ہے کیونکہ اِنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَشْقَى جَلِيسُهُمْ “