خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 282 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 282

خطبات طاہر جلد 17 282 خطبہ جمعہ 24اپریل 1998ء مذہبی غیرت کے عین مطابق ہے۔آنحضرت صلی شما یہ تم اور دیگر انبیاء پر اسی قسم کی بہتان تراشیاں کی گئیں اور ان کے گھروں تک پہنچ کے کی گئیں یعنی ایسے دشمن تھے جو رسول اللہ صلی شما یتیم کے گھر جا کر سخت بے ہودہ باتیں کرتے تھے تو اس لئے آپ رسول اللہ صلی یا یہ ہم سے افضل نہیں ہیں۔آپ رسول الله صل لہ الی یوم کے ادنی ترین غلام ہیں۔آپ کے گھروں تک پہنچ کر اگر کوئی ایسی بے حیائی کی باتیں کرتا ہے تو لازماً آپ کو برداشت کرنی ہوں گی اور اللہ سے گریہ وزاری کریں۔إِنَّمَا اشْكُوا بقى وَحُزْقَ إِلَى الله - (یوسف: 87) وہ مثال پکڑیں کہ میں تو اپنا غم ، اپنا دُ کھ صرف اللہ کے حضور پیش کرتا ہوں اور اس بات میں آپ کی فلاح ہے کیونکہ قرآن کریم اس بات کا ضامن ہے کہ اس قسم کی ایذاء رسانی میں سے ہر دُکھ کے جواب میں اللہ تعالیٰ آپ کے درجے بڑھائے گا۔پس میں آپ کو ایسے صبر کی تلقین نہیں کر رہا جس کے نتیجہ میں کچھ نہ ہو، صرف دُکھ ہی دُکھ ہو بلکہ ایسے صبر کو جو خدا قبول فرمالے بہت میٹھے پھل لگتے ہیں۔اس صبر کو کوئی میٹھا پھل نہیں لگتا جو مجبوری اور بے اختیاری کا نام ہے لیکن جہاں آپ سر پھوڑ سکتے ہوں اور نہ پھوڑیں وہ صبر ہے جو اللہ ہوا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ضرور اس کی بہترین جزا دیتا ہے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ خدا کی خاطر صبر کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ جزا نہ دے۔پس پاکستان ہو یا دوسرے ایسے ممالک ان سب میں احمدیوں کو اس بات میں احتیاط کرنی چاہئے کیونکہ اگر انہوں نے ایک جگہ اپنا رد عمل دکھایا تو اس کا مولوی انتظار کر رہا ہے۔وہ چاہتے ہیں کہ کہیں احمدی مجبور ہو کے، بے اختیار ہو کے کسی کا سر پھوڑے تو ہم سارے پاکستان میں یا دوسرے ممالک میں ان کے سر پھوڑتے پھریں کہ انہوں نے ہمارا ایک سر پھوڑا تھا اس لئے ہم ان کے ہزارسر پھوڑیں گے اور اس بات کو کوئی حکومت نہیں دیکھے گی کہ بے حیائی کس نے کی تھی ، بدتمیزی کس نے کی تھی۔کون ہے جس نے مجبور کر دیا تھا آپ کو۔نہ عدالت دیکھے گی نہ حکومت کا کوئی کارندہ دیکھے گا۔ایک دفعہ آپ کریں تو جوابی کارروائیاں ضرور ہونگی۔تو آپ دیکھیں حکمت اور عقل کا تقاضا کیا ہے۔کیا ایک شخص کا سر پھوڑنے کی خاطر آپ تمام احمد یوں پر ظلم ہوتا دیکھیں گے؟ تو کیا اس ظلم میں آپ شریک نہیں ہو جائیں گے؟ آپ کی وجہ سے اگر کسی معصوم کو دُکھ دیا گیا، کسی کا گھر جلایا گیا تو آپ کا ضمیر آپ کو کیا کہے گا۔اس لئے یہ تو برداشت ایسی ہے جو کرنی ہی کرنی ہے۔اس کے سوا چارہ کوئی نہیں اور یقین رکھنا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس برداشت کے نتیجہ میں ہمارے درجات بلند فرمائے گا اور یہ صبر