خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 283
خطبات طاہر جلد 17 283 خطبہ جمعہ 24اپریل 1998ء رائیگاں نہیں جائے گا۔صبر تو ان کا بھی رائیگاں نہیں جاتا جو خدا کی خاطر ویسے صبر کرتے ہیں۔دنیا کی خاطر بعض لوگ اپنی قوموں کی خاطر صبر کرتے ہیں اور تاریخ عالم گواہ ہے کہ ان کا صبر بھی ضائع نہیں جایا کرتا۔صبر کے اندر ایک صفت ہے جو جیتنے والی صفت ہے، غالب آنے والی صفت ہے۔پس صبر کو کسی پہلو سے آپ دیکھیں تمام کا تمام خیر ہے۔وہ زمانہ جس کے متعلق خدا تعالیٰ نے قسم کھائی ہے زمانہ ہی کی قسم کھائی ہے کہ گھاٹا کھانے والا ہے۔علاج صبر۔پس ساری دنیا میں سارا انسان گھاٹے کھا رہا ہے لیکن صبر والے گھاٹا نہیں کھائیں گے۔صبر ہو اور حق کے ساتھ ہو تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ یہ صبر رائیگاں جائے گا اور اللہ کے نزدیک اس کی قیمت نہیں پڑے گی۔پس آپ اپنے صبر کی قیمت وصول کریں اور وہی صبر ہے جو ایسے ممالک میں انقلاب بر پا کرنے کا کام دے گا۔اب آپ ان سے لڑلیں کسی کا سر پھوڑ دیں، ہرگز کوئی روحانی انقلاب نہیں آئے گا لیکن آپ صبر کریں تو خدا اس بات کا گواہ ہے کہ اس کے نتیجہ میں روحانی انقلاب ضرور بر پا ہوگا۔اب یہ آیات بڑی کثرت سے میرے سامنے ہیں قرآن کریم بھرا پڑا ہے ان آیات سے جن میں صبر کا پھل، جو یہ کیا جائے ، ہمیشہ کامیابی اور کامرانی ہوا کرتا ہے اور جیسا کہ میں نے قرآن کریم کی آیت کا حوالہ دیا ہے ساری دنیا کی کایا پلٹ سکتی ہے اگر خدا کے کچھ صبر کرنے والے بندے حق پر قائم ہوں اور صبر کریں اور صبر کی تلقین کریں لیکن اس بات کو چھوڑ کر یعنی غصہ سے جواب اس طرح دینا که خود انسان اپنے اوپر اختیار چھوڑ دے یا پتھر مارے کسی پر کسی کو ڈکھ پہنچائے ، چڑھ دوڑے کہ اچھا یہ وہ شخص ہے جو بد تمیزی کیا کرتا تھا میں اس کو مار کے چھوڑوں گا۔یہ باتیں درست نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی غیرت کا یہ واقعہ پنڈت لیکھرام کے متعلق میں آپ کو سنا تا ہوں اس سے آپ کو مسیح موعود علیہ الصلواۃ و السلام کا اپنا مسلک خوب اچھی طرح معلوم ہو جائے گا۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فیروز پور سے قادیان آرہے تھے ان ایام میں حضرت میر ناصر نواب صاحب مرحوم فیروز پور میں مقیم تھے اور اس تقریب پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام وہاں گئے ہوئے تھے۔حضرت میر ناصر نواب صاحب کی بیٹی تھیں حضرت ام المومنین اور یہ جو حقوق ہیں آپس کے خاندانی تعلقات کے ، ان کی خاطر ان کے فیروز پور تعینات ہونے اور ایک اچھا گھر ملنے پر مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان کے ہاں گئے ہوئے تھے۔عرفانی صاحب کی یہ