خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 256 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 256

خطبات طاہر جلد 17 256 خطبہ جمعہ 17 اپریل 1998ء کوئی بلا اور دُکھ اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے سوا نہیں آتا اور وہ اس وقت آتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور مخالفت کی جاوے۔“ پہلے بھی بارہا یہی بات بیان کر چکا ہوں کہ اللہ کے ارادہ کے بغیر جب دُکھ نہیں آتا تو اگر آپ حق پر قائم ہیں اور کوئی دکھ آتا ہے تو اللہ اس کا ذمہ دار ہے۔وہ اس کے بدلہ آپ کو دین و دنیا میں بہت کچھ دے گا اس لئے رضا کے سوا اور کوئی دین نہیں ہے اور اگر وہ دُکھ ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے آتا ہے تو پھر بھی اللہ ہی کے حکم سے صادر ہوتا ہے اس وقت استغفار کرنا چاہئے اور اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کرنی چاہئے کہ ہم سے بیوقوفیاں ہوئیں ، ہم سے غلطیاں سرزد ہوئیں اور ہم نے ان کا نتیجہ دیکھ لیا ہے اب تو اس کو ٹال دے اور ہم پر فضل فرما۔اور ایک دُکھ وہ ہے جو نا فرمانی اور مخالفت کی وجہ سے آتا ہے جس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مخالفین کے تعلق میں کر رہے ہیں۔جو مخالفوں پر بلا پڑے گی وہ مخالفت کی وجہ سے آتی ہے اور مسلمانوں اور مومنوں کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔پہلے گروہ کا ذکر ختم ہوا اب نیا گروہ شروع ہوا ہے۔وہ اس وقت آتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور مخالفت کی جاوے۔اب ایسے بھی لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور مخالفت کرتے ہیں جن کا اس آیت کریمہ میں ذکر موجود ہے جو میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔”ایسے وقت پر عام ایمان کام نہیں آتا بلکہ خاص ایمان کام آتا ہے۔“ جب ان مخالفت کرنے والے شریروں کے نتیجہ میں کوئی دُکھ پڑتا ہے تو وہ مخالفت کے نتیجہ میں ہوتا ہے لیکن مومنوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔یہ مضمون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کریم کے حوالہ سے بارہا بیان فرمایا ہے کہ پھر یہ ضروری نہیں کہ مخالفت کا وبال صرف مخالفوں پر پڑے۔مخالفت کا وبال بعض دفعہ اتنا سخت اور اتنا عام ہوتا ہے کہ وہ مومنوں پر بھی پڑ جاتا ہے سوائے اس کے کہ کوئی خاص ایمان رکھتا ہو۔وہ خاص ایمان جو ہے وہ ایک ایسی ایمان کی قسم ہے جو کسی شخص کو اللہ کی پناہ میں مکمل طور پر گھیر لیتا ہے۔پس ان کا ایمان ہے جو انہیں اللہ کی پناہ میں گھیرتا ہے اور وبائیں کیسی بھی عام کیوں نہ ہوں، و بال کس قسم کا بھی ہو یہ خدا کے مومن بندے ہر حال میں بچائے جاتے ہیں۔تو یہ خارق عادت ایمان ہے جس کو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لفظ خارق عادت کے تحت اور جگہ بیان فرمایا ہے اور اس کا گر بھی سمجھا دیا ہے۔خارق عادت کا مطلب ہے