خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 255 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 255

خطبات طاہر جلد 17 255 خطبہ جمعہ 17 اپریل 1998ء احمدیت اس کے سوا اور کیا پیغام دیتی ہے جو قرآن کریم نے دیا ہے، اس کے سوا اور کیا پیغام دیتی ہے جو حضرت اقدس محمد مصطفی سلی یا یہ تم نے دیا ہے۔ایک بات بھی نہیں دکھا سکتے کہ جس میں ہماری کوشش اہل دنیا کو قرآن کریم کی تعلیم پہنچانے کے سوا کچھ اور بھی ہو۔حضرت اقدس محمد مصطفی سال نمی ایستم کا پیغام پہنچانے کے سوا کچھ اور بھی ہو۔جب سراسر پیغام نیکی اور قرآن پر مبنی ہے تو پھر ظاہر بات ہے کہ ان کا حسد بے وجہ ہے۔مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمُ اپنے اندر ہی سے ایک غضب اٹھ رہا ہے جو ان کو کھائے چلا جا رہا ہے اور اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ انہوں نے پہچان لیا ہے کہ یہ حق پر ہیں۔اگر حق پر پہچاننا ثابت نہ ہوتا تو ہمارا دین بدلنے کی کوشش نہ کرتے۔یہ عجیب تماشہ ہے، عجیب مخمصہ میں یہ لوگ پھنسے بیٹھے ہیں کہ ہمارا دین بدلانے کی کوشش کر رہے ہیں، اسے قرآن کے دین سے الگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، محمد رسول اللہ صلی السلام کے دین سے الگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔کہتے ہیں تم یہ تعلیم نہ دو جو قرآن نے دی ہے، یہ تعلیم نہ دو جو محمد رسول اللہ صلی ایلیم نے دی ہے پھر ہم راضی ہو جائیں گے۔اب اس کو اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے۔مِنْ عِنْدِ اَنْفُھم یہ جاہل لوگ تبین کے بعد باوجود اس کے کہ جان چکے ہیں کہ یہ احمدی لوگ قرآن اور حدیث سے چھٹے ہوئے ہیں وہی تعلیم دے رہے ہیں، اس کے بعد ان کے پھیلنے پر حسد صرف مِنْ عِنْدِ اَنْفُهم ہے ورنہ قرآن کے پھیلنے پر ان کو حسد کا کیا حق ہے، حدیث کے پھیلنے سے ان کو حسد کا کیا حق ہے۔فرمایا ان لوگوں کی تو جاہلوں والی حالت ہے۔فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا ان سے ایسا درگزر کرو، ایسا منہ پھیرو کہ جیسے یہ بستے ہی نہیں۔ان کی تو حیثیت ہی کوئی نہیں اس معاملہ کے بعد اللہ ہے جو ان سے نپٹے گا اور وہی نپٹ سکتا ہے۔حتٰى يَأْتِي اللهُ بِاَمرِہ یہاں تک کہ اللہ اپنا امر لے کر آجائے۔اپنا آخری فیصلہ سنانے کے لئے ظاہر ہو جائے اور پھر ان کی کچھ بھی پیش خدا کی تقدیر کے سامنے نہیں چل سکے گی۔إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ اللہ ہر چیز پر قادر ہے جب چاہے گا جس طرح چاہے گا وہ اپنی تقدیر کو جاری کر کے دکھائے گا۔یہ جتنا جلتے ہیں جلتے رہیں ان کی کچھ پیش نہیں جائے گی۔یہ مضمون ہے اس آیت کریمہ کا، جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ان تحریرات کے بعد جو میں آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں ، آخر پر آئے گا اور وہیں اس کا موقع ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں: