خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 257 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 257

خطبات طاہر جلد 17 257 خطبہ جمعہ 17 اپریل 1998ء عام عادت سے ہٹا ہوا ، عام عادت کو توڑتا ہوا۔اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے عام حالت کو توڑتا ہوا تعلق رکھتا ہے جب وہ اللہ سے عام حالات کو توڑتے ہوئے تعلق رکھتے ہیں۔پس یہ دو طرفہ معاملہ ہے خدا کے وہ نیک بندے جو اپنی عادات کو خدا کے لئے ایسا بدلتے ہیں کہ عام لوگ نہیں بدلا کرتے ان کے متعلق اللہ تعالیٰ کا بھی یہی فیصلہ ہے کہ لازماً ان سے خارق عادت تعلق رکھے گا۔آگ میں پڑیں گے بھی تو آگ سے بچائے جائیں گے۔یہ لوگ ہیں جن پر آگ ٹھنڈی کی جاتی ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نافرمانی اور مخالفت کے نتیجہ میں بھڑ کنے والی آگ کا ذکر فرماتے ہوئے فرماتے ہیں: جو لوگ عام ایمان رکھتے ہیں (وہ اُن بلاؤں سے حصہ لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اُن کی پرواہ نہیں کرتا۔مگر جو خاص ایمان رکھتے ہیں) اللہ تعالیٰ اُن کی طرف رجوع کرتا ہے اور آپ اُن کی حفاظت فرماتا ہے۔مَن كَانَ لِله كَانَ اللهُ له۔( جو اللہ کا ہو جائے اللہ اس کا ہو جاتا ہے ) بہت سے لوگ ہیں جو زبان سے لا الہ الا اللہ کا اقرار کرتے ہیں اور اپنے اسلام اور ایمان کا دعوی کرتے ہیں مگر وہ اللہ تعالیٰ کے لئے دُکھ نہیں اٹھاتے۔“ اب یہ دکھ اٹھانے کا معاملہ عام لوگوں کے ایمان کو دوسرے لوگوں کے ایمان سے مختلف کر دیتا ہے۔پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس میں خدا کی خاطر دُکھ اٹھانے والوں کا معاملہ ایسا ہے جو خدا کے نزد یک خارق عادت ہی شمار ہوگا کیونکہ وہ جانتے بوجھتے اللہ کی خاطر بندوں کا دُکھ قبول کر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتے ہیں اور وہ حرکت نہیں کرتے جو خدا کی ناراضگی کا موجب بنے مگر کچھ اور لوگ بھی ہیں جو اسلام اور ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں۔کوئی دُکھ یا تکلیف یا مقدمہ آجاوے تو فوراً خدا کو چھوڑنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔“ پس ہمیشہ جب آپ مرتدین کی تاریخ کا مطالعہ کریں گے تو یہ وہی لوگ ہوں گے جب مصیبت پڑتی ہے تو خدا کو چھوڑ کر غیر اللہ سے ڈرتے ہیں، انسانوں سے ڈرتے ہیں اور ارتداد اختیار کر جاتے ہیں اور وہ خواہ بظاہر یہی کہیں کہ دل میں ایمان ہے اوپر سے ہم مرتدوں میں ہیں اللہ تعالیٰ ان کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔جو پہلے لفظ پر واہ تھا اس سے غلط نہی ہوتی تھی کہ عام مومنوں کی پرواہ نہیں کرتا مگر عام مومن جب آزمائے جائیں اور آزمائش میں پورا نہ اتریں اور غیر اللہ کے ہو جائیں اور نظر آجائے کہ ان کا اللہ سے نہیں بلکہ بندوں سے تعلق ہے ایسے لوگوں کی اللہ پرواہ نہیں کرتا۔