خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 234 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 234

خطبات طاہر جلد 17 234 خطبہ جمعہ 3اپریل 1998ء 66 فرمائی ہیں کہ کیا تو نے تکبر کی راہ اختیار کی اے شیطان ! یا اپنے آپ کو بڑا سمجھا، اونچا سمجھا۔یہ دو باتیں ہیں جو شیطان کا تعارف کروانے کے لئے بنیادی باتیں ہیں۔جو شخص بھی اپنے آپ کو متکبر بنائے اور سمجھے کہ میں نے ہر چیز اپنی کوشش سے پالی ہے اور میں بہت بڑا ہو گیا ہوں وہاں سے شیطانیت کا پہلا قدم اٹھتا ہے اور آخری قدم بھی پھر یہی ہے اور دوسر ا علا کا دعوی کرے میں بہت بلند ہوں، مجھے کیا ضرورت ہے خدا یا خدا والوں کی میں تو اپنی ذات میں ہی بہت بلند ہوں۔ایسے شخص کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس تحریر سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ کوئی بھی سفر ہدایت کی طرف نہیں کرسکتا، نہ ہدایت دے سکتا ہے۔چنانچہ جتنے مولوی آپ کو دکھائی دیں گے ملانے ملنے جنہوں نے فساد بر پا کر رکھا ہے ان کے اندر لاز ما یہ دو باتیں پائی جائیں گی۔تکبر اور اپنے آپ کو اونچا سمجھنا اور ہر چیز اس کے مقابل پر حقیر دکھائی دے گی۔فرمایا: ”سب سے اول اپنے دلوں میں انکسار اور صفائی اور اخلاص پیدا کرو۔“ اب صرف تکبر سے پاک کرنا نہیں ہے بلکہ دلوں میں صفائی پیدا کرو۔بظاہر تکبر اور غلا کے دور ہونے سے ایک صفائی ہو جاتی ہے مگر اور بھی بہت سے محرکات ہیں جن کے نتیجہ میں گند پھیلا ہوا دکھائی دے گا۔پہلے بڑی چیز کو نکالو جوگند کا منبع ہے اس کو تو دور کرو جیسے گھروں میں صفائیاں ہوتی ہیں پہلے بڑی بڑی خرابیوں کو دور کیا جاتا ہے، اس قابل بنادیا جاتا ہے کہ اب اس میں کچھ اور کام ہو سکتا ہے پھر بار یک صفائی ہوتی ہے اور جنہوں نے نئے گھر بنائے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اس میں کتنی محنت لگتی ہے۔پہلی صفائی بہت بڑی بڑی صفائی ہونے والی دکھائی دیتی ہے، سمجھتے ہیں کہ اب کام ختم ہو گیا اور جب کام ختم ہوا تو کام شروع ہوتا ہے۔مجھے بھی ایک دعوت دینے والے نے جنہوں نے نیا گھر بنایا تھا دعوت دی اور کہا کہ بس آپ دیکھ لیں اب یہ موٹی موٹی باتیں ہیں یہ ٹھیک ہوجائیں گی تو پھر ہم آپ کو بلائیں گے۔موٹی باتیں ٹھیک ٹھاک ہوئے ہوئے چھ مہینے سے زیادہ گزر گئے۔میں نے کہا بلاتے کیوں نہیں اب۔انہوں نے کہا جو بار یک صفائی ہے اس میں بڑا وقت لگ رہا ہے، ایک چیز صاف کرتے ہیں دوسری نظر آ جاتی ہے اور باہر سے اوروں کو بھی ہم بلاتے ہیں ساتھ مدد کرنے کے لئے لیکن صفائی نہیں ہو چکتی۔یہ بالکل سچی بات ہے یہی نفس کا حال ہے، یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمارہے ہیں انکسار اور صفائی اور اخلاص پیدا کرو۔صفائی کے