خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 233
خطبات طاہر جلد 17 233 خطبہ جمعہ 3اپریل 1998ء کے لئے خطرہ ہے اس کو جان لے کہ یہاں میرے لئے ٹھوکر کا سامان ہے اس سے بیچ کر نکلے۔فرمایا: سو تقوی یہی ہے کہ ان تمام نقصانوں سے بچ کر خدا تعالیٰ کی طرف قدم اٹھاؤ۔اب یہ کون سی مشکل بات ہے دیکھنے میں کتنا مشکل سفر تھا مگر انسان جو خدا کی طرف جانے کے سفر پر اپنے دل پر غور کرے تو اسے نظر آرہا ہوتا ہے کہ کہاں سے بچنا چاہئے تھا اور نہیں بچا۔باہر سے بتانے کی بھی ضرورت نہیں ، ہر شخص اپنے دل کا حال جانتا ہے۔ہر فیصلہ کے وقت جانتا ہے کہ یہاں میرے لئے بچنا ضروری تھا میں نہیں بچ سکا۔اور پر ہیز گاری کی باریک راہوں کی رعایت رکھو۔( لیکن یہ کیسے ممکن ہے) سب سے اول اپنے دلوں میں انکسار اور صفائی اور اخلاص پیدا کرو۔“ اگر اپنے دل میں انکساری ہی نہیں ہے تو ممکن نہیں ہے کیونکہ انکساری کے نتیجہ میں وہ نور نازل ہوتا ہے جس سے آپ رستہ دیکھ سکتے ہیں۔پس باریک راہوں سے بچنا اور انکساری کے بغیر چلنا یہ ناممکن ہے۔تکبر اور انا یہ دو چیزیں ہیں جو اندھیرے پیدا کرتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کو کوئی ضرورت نہیں کہ ایک متکبر کے لئے اس کے رستہ دکھائے پھر وہ اپنے دل کی آگ سے آگے بڑھتا ہے اور اس کا تکبر اس کو ہمیشہ ایک ٹھوکر کے بعد دوسری ٹھوکر میں مبتلا کر دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہر مقام پر انکساری کو اول رکھا ہے۔تمام تحریرات کا مطالعہ کر کے دیکھیں ان میں کبھی آپ کو تضاد دکھائی نہیں دے گا کیونکہ آپ نے انکساری سے سفر کیا تھا۔آپ سے بہتر کوئی اس راز کو نہیں سمجھ سکتا تھا کہ انکساری کے بغیر سفر کا پہلا قدم ہی نہیں اٹھ سکتا۔آپ کی انکساری کی مثالیں جو تحریرات میں اور نظموں اور نثر میں ملتی ہیں بے شمار ہیں اور جاہل دشمن نے جہاں سب سے زیادہ نو ر تھا وہیں اس پر حملہ کیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی انکساری پر مذاق اڑایا ہے کہ جس کا اپنا اقرار ہے کہ میں کچھ بھی نہیں ہوں اس کے پیچھے چل رہے ہو۔جو مانتا ہے کہ میری کوئی حیثیت ہی نہیں، میں تو ایک کیڑے کی طرح ہوں وہ اس اقرار کے بعد دُنیا کی راہنمائی کیسے کر سکتا ہے۔یہ ملاں اور ملانوں بدبختوں کی عقل ہے حالانکہ اس کے بغیر ہدایت کا سفر شروع ہی نہیں ہوسکتا۔اس لئے وہ ہدایت سے عاری ہیں۔وہ دُنیا کو ہدایت دے ہی نہیں سکتے کیونکہ تمام ملانوں میں تکبر اور نفس کی بڑائی پائی جاتی ہے اور تمام دہریوں میں تکبر اور نفس کی بڑائی پائی جاتی ہے۔جس شخص کو پہچاننا ہو کہ یہ شیطان ہے اس کے اندرانا کو ڈھونڈو۔قرآن کریم نے دو باتیں بیان