خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 220
خطبات طاہر جلد 17 220 خطبہ جمعہ 3 اپریل 1998ء لگتا ہے۔ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِہ تا کہ اس کے رستہ سے لوگوں کو ہٹا دے جس نے اس کا دکھ دور کیا تھا یعنی یہاں بے حیائی کی ایک انتہائی قسم بیان ہوئی ہے۔ جب مصیبت پڑتی ہے تو اس مصیبت کے وقت وہ صرف خدا ہی کو پکارتا ہے اور خالصہ اس کو کہتے ہوئے کہ میں تیرے حضور جھک گیا ہوں اب مجھے بچالے۔ جب وہ مصیبت دور فرما دیتا ہے تو پھر اس کے خلاف اس کے علاوہ شریک بنا لیتا ہے اس نیت کے ساتھ تا کہ لوگوں کو اس کے رستہ سے گمراہ کر دے۔ پس جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا یہ بے حیائی کی سب سے خطرناک قسم ہے۔ ضرورت پوری کی اور پھر اس کے خلاف ہو گئے اور باقیوں کو بھی خلاف کرنا شروع کر دیا یا خلاف کرنے کی کوشش شروع کر دی ۔ قُلْ تَمَتَّعُ بِكُفْرِكَ قليلا آنحضرت صلی الله السالم کو مخاطب فرمایا گیا ، کہہ دے کہ کچھ دیر اپنی دنیا کے فوائد کے مزے اُڑالو، تھوڑے سے فوائد کے مزے اڑا لو ۔ اِنَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ اس بات سے کوئی بھی مفر نہیں کہ تم لازماً جہنم کا ایندھن بننے والے ہو، بلکہ ہو، کیونکہ جو تمہاری کیفیت ہے وہ ایک آگ کا پتا دے رہی ہے جو تمہارے دل میں بھڑک رہی ہے۔ کوئی شخص بھی اللہ تعالیٰ سے ایسی بے حیائی کا سلوک نہیں کر سکتا جب تک اس کے دل میں کوئی خدا کے خلاف یا خدا والوں کے خلاف کینہ کی آگ نہ بھڑک رہی ہو۔ پس وہ آگ بتا رہی ہے کہ وہ ہے ہی جہنمی ۔ اس کی ساری حرکتیں ، ساری کوششیں اللہ سے بندوں کو دور کرنے کی یہ اس کے جہنم کی نشان دہی کر رہی ہیں ۔ امَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ الَّيْلِ سَاجِدًا وَ قَائِمًا کیا ایسا شخص اس کے برابر ہو سکتا ہے۔ امنْ هُوَ قَانِتُ اناء اليْلِ جو فرمانبرداری کے ساتھ رات کی گھڑیوں میں ۔ سَاجِدًا وَ قائما وہ وقت گزارتا ہے رات کی گھڑیاں سجدہ کرتے ہوئے اور قیام کی صورت میں ۔ يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وه آخرت سے ڈرتا ہے ۔ وَ يَرْجُوا رَحْمَةَ رَبِّہ اور اور ا۔ اپنے رب کی رحمت سے سے اُمید لگائے بیٹھا ہے۔ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ پوچھ ان سے کہ کیا یہ صاحب علم لوگ اور بے علم لوگ جو خدا کی ناشکری میں ایسے بے حیا ہو جاتے ہیں کہ بنی نوع انسان کو اس سے دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، کیا یہ برابر ہو سکتے ہیں ۔ ؟ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُوا الْأَلْبَابِ باتیں خوب کھول دی گئی ہیں ، اب صرف اہل عقل چاہئیں جو اس سے فائدہ اٹھائیں ان کے سوا کوئی ان باتوں سے نصیحت حاصل نہیں کر سکتا ۔