خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 188
خطبات طاہر جلد 17 188 خطبہ جمعہ 20 مارچ1998ء توفیق بھی تو اللہ ہی نے دی ہے ورنہ مجھے کیسے توفیق مل سکتی تھی کہ میں ایسے اعمال بجالا ؤں۔تو انکساری اور شکر کے مزاج نے یہ دعا آپ صلی ا یتیم سے کروائی ہے۔اے میرے رب میرا حساب آسان کرنا کیونکہ جو بھی مجھے عطا ہوا ہے تو نے عطا کیا ہے، تیری عطا ہے۔مگر میں تیرے شکر کا تقاضا ادا کرتا ہوں اور عجز کا تقاضا ادا کرتا ہوں اور عرض کر رہا ہوں کہ وہاں بھی احسان کا سلوک ہو جیسے یہاں احسان کا سلوک ہوا ہے۔پس شک کی وجہ سے نہیں بلکہ تضرعات کا حصہ ہے کہ عجز بھی اختیار کیا جائے اور شکر بھی ادا کیا جائے۔پھر فرماتے ہیں: مگر اے عائشہ جس سے پوچھ گچھ کی گئی تو وہ ہلاک ہو گیا۔ہر وہ مصیبت جو مومن کو پہنچتی ہے اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے مومن کی کوئی غلطی معاف کر دیتا ہے حتی کہ اگر اسے کوئی کانٹا بھی چبھے تو اس کی وجہ سے اس کا کوئی گناہ معاف کر دیا جاتا ہے۔“ (مسند احمد بن حنبل، مسند المكثرين من الصحابة ، حدیث نمبر : 24215 ) تو حِسَابًا يَسِيرًا کا ایک اور معنی معاف کرنا بھی فرما دیا کہ جس طرف عام انسان کی نظر پہنچ نہیں سکتی تھی۔فرمایا مومن کا حساب تو اس دُنیا میں جاری ہو چکا ہوتا ہے اور مومن کے حساب میں ایک کانٹا بھی داخل کیا جاتا ہے۔جو کانٹے کی تکلیف پہنچتی ہے گویا اس کو اپنے غلط اعمال کی جزا یہیں ملتی ہے اور قیامت تک پہنچنے سے پہلے اسی دُنیا میں اس کا حساب چکا کر یہ فیصلہ کر دیا جاتا ہے کہ یہ اب آسان حساب کا مستحق ہو گیا ہے کیونکہ دنیا میں ہر تکلیف، ہر بیماری، ہر مشکل ، ہر غم اس کے اعمال نامہ میں ایک جزا کے طور پر لکھا جائے گا۔اب اس مضمون کو اگر آپ سمجھ لیں تو جو میں بار بار نصیحتیں کرتا آیا ہوں اور بعض لوگ نہیں سنتے کہ دنیا میں جو غم پہنچتے ہیں، جو مشکلات ہوتی ہیں وہ اگر آپ مومن ہیں تو آپ کے کھاتے میں جزا کے طور پر لکھے جائیں گے اور قیامت کے حساب کی سختیوں سے آپ بچادئے جائیں گے۔یہ احسان ہے اور لوگوں کی اس احسان پہ نظر نہیں ہوتی۔کوئی پیارا ہاتھ سے نکل جائے ، کوئی دکھ پہنچے، کوئی تکلیف، کچھ مال ضائع ہو تو ایسا واویلا کرنے لگتے ہیں کہ گویاوہ انہی کا تھا ، انہی کا حق ہے، لازم ہے خدا پر کہ ان سے اس دُنیا میں ہر معاملہ میں نرمی برتے اور کبھی سختی سے کام نہ لے۔اس خیال کے ساتھ ان کا قیامت کا اعمال نامہ گندہ ہو جائے گا اور حساب یسیر کی فہرست سے نکل کے وہ حساب عسیر کی