خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 187
خطبات طاہر جلد 17 187 خطبہ جمعہ 20 مارچ 1998ء بِيَمِينِهِ لا فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يسيران۔پس جسے اس کی کتاب دائیں ہاتھ سے تھمائی گئی اس سے بہت آسان حساب لیا جائے گا۔آپ صلی اللہ یہ تم نے فرمایا: یہاں حساب سے مراد اعمال سے آگاہ کرنا ہے لیکن جس کے محاسبہ میں سختی کی گئی وہ ہلاک ہو گیا۔“ (صحیح البخاری، کتاب تفسیر القرآن باب فسوف يحاسب۔۔،حدیث نمبر :4939) حساب سب کا ہوگا لیکن ایک حساب وہ ہے جہاں صرف اعمال سے آگاہ کرنا مقصود ہے وہ حِسَابًا يسيرا ہے لیکن میں جو کہتا ہوں کہ ہلاک ہو گیا مراد یہ ہے کہ جس کے محاسبے میں سختی کی گئی وہ ہلاک ہو جائے گا۔دوسری حدیث جو مسند احمد بن حنبل سے لی گئی ہے حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ : ایک دفعہ آنحضرت مصلی تم کو دوران نماز یہ دعا کرتے ہوئے سنا۔اللّهُم حَاسِبُنِی حِسَابًا يَسِيرًا، اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا - محمد رسول الله صلا تم یہ دعا مانگ رہے ہیں اور بار بار عرض کر رہے تھے نماز میں۔اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يُسِيرًا۔اے میرے اللہ مجھ سے آسان حساب کرنا۔(حضرت عائشہ فرماتی ہیں: ) جب آپ مسالا ای تم نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کی اے اللہ کے نبی صلی شما یہ ستم حسابا يسيرا سے کیا مراد ہے؟ فرمایا جس کا اعمال نامہ سرسری نظر سے دیکھا گیا۔“ جیسا کہ میں نے آپ سے عرض کی تھی کہ یہاں بھی جب بارڈر کر اس کئے جاتے ہیں تو بعض پاسپورٹ صرف سرسری نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔یہ دعا کر رہے تھے کہ میرا حساب نامہ بھی سرسری نظر سے دیکھا جائے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی یہ تم کیوں بے قرار ہیں جبکہ لازماً آپ صلی ہی تم کو علم تھا کہ اگر کوئی بے حساب بخشا جا سکتا ہے تو آپ صلی شما پس تم ہیں۔اگر کسی کا اعمال نامہ سرسری نظر سے دیکھے جانے کے لائق ہے تو حضرت محمد رسول اللہ سالی یا پیام کا اعمال نامہ اس لائق تھا لیکن یہ دعا کیوں کرتے ہیں کہ میرے حساب میں آسانی کرنا۔اس کی وجہ وہ انکسار ہے جو آنحضرت صلیہ ستم کا طرہ امتیاز تھا اور اس انکسار میں ایک گہری حقیقت تھی۔آپ ملی شنا کہ تم جانتے تھے کہ آپ مالی شمارہ یتیم بھی فضل الہی کے سوا بخشے نہیں جاسکتے اور اپنے اعمال پر ذرہ بھی فخر کی نگاہ نہیں تھی کیونکہ جانتے تھے کہ یہ