خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 6
خطبات طاہر جلد 17 6 خطبہ جمعہ 2 جنوری 1998ء اپنے گردو پیش، اپنے ماحول کو بھی شریک کریں تا کہ یہ نیکیوں کا مضمون پھولنے اور پھلنے لگے اور تمام دنیا پہ محیط ہو جائے۔یہ ایک ایسا فعل ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے چلائی جانے والی ہواؤں کے رخ پر ہوگا۔فرشتے دعائیں کریں گے اور آپ آگے قدم بڑھائیں گے۔تو بہت تیزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے خدا کی راہ میں خرچ کرنے والوں کے اموال میں برکت دے گا اور اس برکت کے نمونے ہم دیکھ رہے ہیں۔تمام دنیا میں ایسے خرچ کرنے والوں کو خدا تعالیٰ مزید عطا فرمارہا ہے اور ان جیسے اور پیدا کر رہا ہے جن کے نتیجہ میں احمدیت کے بڑھتے ہوئے بوجھ بآسانی اٹھائے جارہے ہیں۔میں نے پہلے بھی بار ہا ذکر کیا ہے کہ آج تک ایک بھی ضرورت ایسی میرے سامنے نہیں آئی جو ضرورت حقہ ہو، اچانک سامنے پیدا ہو جائے اور اس کی تائید میں الہی ہوا نہ چلی ہو۔ہمیشہ بغیر تحریک کے، کثرت کے ساتھ عین ضرورت کے وقت اللہ تعالیٰ ضرورت پوری کرنے کے سامان پیدا کر دیتا ہے اور مبارک ظفر صاحب جن کے سپر د شریف اشرف صاحب کے علاوہ آج کل مالیات کا نظام ہے وہ جب کسی خاص بڑھتی ہوئی ضرورت کے متعلق بات کرنے آتے ہیں تو ان کی مسکراہٹ بتا رہی ہوتی ہے کہ پھر وہی واقعہ ہو گیا ہے۔ان سے برداشت نہیں ہوتی بے اختیار ہنس پڑتے ہیں کہ وہی بات ہوئی میں ضرورت کا پوچھنے کے لئے آیا تھا اور یہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ پورا ہونے کے سامان بھی ساتھ پہنچ گئے ہیں۔یہ ایسا مسلسل خدا تعالیٰ کا سلوک ہے کہ آج تک کبھی ذرہ بھی اس میں کو تاہی نہیں ہوئی۔پس آپ محفوظ ہاتھوں میں ہیں، نہ صرف یہ کہ آپ محفوظ ہاتھوں میں ہیں بلکہ آپ کے دل کی سچائی پر یہ باتیں گواہ ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ سچے لوگوں سے ہے۔جو خدا کی خاطر ، نہ کہ دُنیا کو دکھانے کے لئے ، اس کی راہ میں اپنی طاقتیں اور اپنے اموال خرچ کرتے ہیں ان کے ساتھ یہ وعدہ ہے اور ہمارے ساتھ یہ وعدہ پورا ہورہا ہے۔تو سب سے خوشی کی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان خرچ کرنے والوں کے دلوں پر نظر رکھی اور ان کی نیکیوں اور ان کے خلوص کو قبول فرمالیا ہے اور یہ قبولیت کے نشان ہیں جو ہم دیکھ رہے ہیں۔اللہ کرے کہ ہمیشہ اسی طرح یہ قبولیت کے نشان ہمارے حق میں ظاہر ہوتے رہیں۔جہاں تک روک رکھنے والے کنجوس کی ہلاکت کی دعا ہے اس سلسلہ میں میں بعض وضاحتیں پیش کرنا چاہتا ہوں کیونکہ دنیا میں لوگوں نے کئی دفعہ دیکھا ہے کہ روک رکھنے والے کنجوس کو ہلاک نہیں کیا جاتا، کیوں ہلاک نہیں کیا جاتا یہ مضمون میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔