خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 5
خطبات طاہر جلد 17 5 خطبہ جمعہ 2 جنوری 1998ء کو جانتا ہے اور وہ لوگ جن کے دل میں یہی باتیں ہیں ان کو بھی اس کا ڈھنڈورا پیٹنے کی ضرورت نہیں۔اللہ دلوں کے حال کو جانتا ہے۔وہ ہر تو گل کرنے والے سے وہی سلوک فرمائے گا جو ہمیشہ فرما یا کرتا ہے۔امِنُوا بِاللهِ وَرَسُولِهِ وَ أَنْفِقُوا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِينَ فِیهِ اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور خرچ کرو۔مِمَّا جَعَلَكُم جو اس نے تمہارے لئے بنایا۔جن جائیدادوں کا یعنی جو بھی مال و متاع دُنیا کے ہیں یا جو بھی طاقتیں عطا ہوئی ہیں ان کا تمہیں مالک بنادیا ہے۔استخلاف کا مضمون پہلی قوموں کے ورثہ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔وہ چیزیں جو پہلی قوموں کو عطا کی گئی تھیں وہ اب لازماً تمہیں عطا کی جائیں گی اور اس بات پر متنبہ ہو جاؤ کہ خدا تعالیٰ تم سے توقع نہیں رکھتا کہ ان طاقتوں کو ، ان عظمتوں کو جو دُنیا میں تمہیں عطا کی جائیں گی ان کو اپنے ہاتھ سے ضائع کر دو اور اس دن کو پھر اندھیروں میں تبدیل کر دو۔اگر یہ ہوا تو تم ذمہ دار ہو۔فَالَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَأَنْفَقُوا لَهُمْ اجر کبیر۔پس یاد رکھو کہ وہ لوگ تم میں سے جو ایمان لاتے ہیں اور خرچ کرتے ہیں۔یہاں خرچ سے مراد صرف دنیاوی خرچ نہیں بلکہ روحانی طور پر اپنی تمام طاقتیں ، تمام دل و جان اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کے لئے آخر کبیر ایک بہت بڑا اجر مقدر ہے۔اب رمضان کا مہینہ ہے اور یہ مضمون جو دراصل تو وقف جدید کے لئے شروع کیا گیا تھا میں اس کو رمضان کے ساتھ ملانا چاہتا ہوں تاکہ رمضان کی برکتوں میں وقف جدید اور وقف جدید کی برکتوں میں رمضان کی برکتیں شامل ہو جائیں۔حضرت اقدس محمد مصطفی سالی ایم کے متعلق بخاری کتاب الزكاة یہ بیان کرتی ہے اور یہ قول ابو ہریرہؓ سے مروی ہے آنحضرت صلی یا یہ تم نے فرمایا: ہر صبح دو فرشتے اترتے ہیں۔ان میں سے ایک کہتا ہے، اے اللہ خرچ کرنے والے سخی کو اور دے اور اس کے نقش قدم پر چلنے والے اور پیدا کر۔دوسرا کہتا ہے اے اللہ روک رکھنے والے کنجوس کو ہلا کت دے اور اس کا مال و متاع بر باد کر 66 (صحیح البخاری، کتاب الزكاة، باب قول الله تعالى فأما من أعطى۔۔۔حدیث نمبر :1442) اس میں سے جو پہلا حصہ ہے وہ تو ظاہر وباہر ہے، اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو خرچ کرنے والے ہیں خصوصیت سے رمضان المبارک میں، ان کے لئے فرشتے دعائیں کرتے ہیں اور ان کے نقش قدم پر چلنے والوں کے لئے بھی دعائیں کرتے ہیں۔پس آپ اپنی نیکیوں میں اپنے بچوں کو بھی شریک کریں،