خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 153
خطبات طاہر جلد 17 153 خطبہ جمعہ 6 مارچ1998ء سارے رموز بتاتے ہیں جن رموز کی وجہ سے ان رستوں پر چلنا ممکن ہوسکتا ہے، ایک ذرہ بھی ہماری ضرورت کا آپ نے باقی نہیں چھوڑا۔اس کو امام وقت کہتے ہیں۔یہ وہ امام ہے جسے خدا خود بناتا ہے اور خود قدم قدم پر اس کی راہنمائی فرماتا ہے۔چنانچہ اس دعا کی طرف اشارہ کرنے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: تم یا درکھو کہ اگر اللہ تعالیٰ کے فرمان میں تم اپنے تئیں لگاؤ گے اور اس کے دین کی حمایت میں ساعی ہو جاؤ گے تو خدا تمام رکاوٹوں کو دور کر دے گا اور تم کامیاب ہو جاؤ گے۔کیا تم نے نہیں دیکھا کہ کسان عمدہ پودوں کی خاطر کھیت میں سے ناکارہ چیزوں کو اکھاڑ کر پھینک دیتا ہے۔“ وہ جو اقتباس میں نے چن کر رکھا ہوا تھا وہ کہیں اور جگہ رہ گیا ہے غلطی سے مگر مضمون وہ ہے جو میں بیان کر چکا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے شیطان کی جنگ کا آغاز آدم سے شروع کیا ہے جیسا کہ واقعہ اسی وقت ہوا اور فرمایا کہ آدم کو اس دعا کے ذریعہ فتح نصیب ہوئی ہے اور یہ دعا وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے خود آدم کو سکھائی۔پس آج بھی ہر انسان کو شیطان سے جنگ کے وقت اس آیت کی پناہ میں آنا ہوگا اور جب تک وہ اس آیت کو نہ پڑھے اور دل کی گہرائیوں سے نہ پڑھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے وہ مدد نصیب نہیں ہو سکتی جس کے بعد اسے بالآخر شیطان پر فتح نصیب ہوگی۔یہ بیچ کا ایک اقتباس تھا یہ رہ گیا ہے اور اب میں نے زبانی آپ کو بتادیا۔اب آپ کے سامنے میں دوسرا اقتباس رکھتا ہوں۔فرمایا ” تم یاد رکھو کہ اگر اللہ تعالیٰ کے فرمان میں تم اپنے تئیں لگاؤ گے اور اس کے دین کی حمایت میں ساعی ہو جاؤ گے تو خدا تمام رکاوٹوں کو دور کر دے گا۔اگر اللہ تعالیٰ کے فرمان میں تم اپنے تئیں لگاؤ گے اور اس کے دین کی حمایت میں ساعی ہو جاؤ گے۔یہ دین کی حمایت میں ساعی ہو جانا، اس سے پہلے کوشش سے پہلے کلیۂ پاک ہونے کا تقاضا نہیں کرتا بلکہ کلیۂ پاک ہونے کا ایک ذریعہ ہے۔اس لئے ہر وہ شخص جو آج اللہ تعالیٰ کے دین کی حمایت میں اپنے دل میں جوش پاتا ہے اور قطع نظر اس کے کہ وہ خود کیسا ہے کیسے کیسے گناہوں میں ملوث ہے، کیا کیا کمزوریاں اس کو ہیں وہ اگر اس محبت پر غلبہ نہیں پاسکتا، بہانہ نہیں ڈھونڈتا کہ میں کہاں اور خدا کے دین کی خدمت کہاں، جو کچھ اس کا ہے وہ اس کے حضور حاضر کر دیتا ہے۔