خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 154
خطبات طاہر جلد 17 154 خطبہ جمعہ 6 مارچ1998ء سپردم بتو مایه خویش را تو دانی حساب کم و بیش را ( حکیم نظامی گنجوی) یہ کہہ کر کہ اے میرے آقا میرا جوسرمایہ تھا تیرے سپر د ہے ” تو دانی حساب کم و بیش را “۔اب کم و بیش یعنی کمی اور زیادتی کا حساب تو جانے میں نے جو کرنا تھا وہ کر دیا۔فرمایا ایسے لوگوں کی اللہ ضرور حمایت کرتا ہے۔تم یا درکھو کہ اگر اللہ تعالیٰ کے فرمان میں تم اپنے تئیں لگاؤ گے اور اس کے دین کی حمایت میں سائی ہو جاؤ گے۔“ یہ وہ مضمون ہے جو میں نے ابھی آپ کے سامنے بیان کیا ہے۔” تو خدا تمام رکاوٹوں کو دور کر دے گا۔“ جو تمہاری راہ میں اللہ کے قریب جانے کی راہ میں حائل رکاوٹیں ہیں اور وہ دراصل خود اپنے نفس کی پیدا کردہ ہوتی ہیں۔فرمایا اللہ تعالیٰ تمام رکاوٹوں کو دور کر دے گا اور تم کامیاب ہو جاؤ گے۔یہ کیوں ہے؟ اس لئے کہ تم خدا کا پودا بن جاتے ہو، جب بھی تم یہ عہد کر کے خدا کے لئے اپنی خدمات کو پیش کرتے ہو تو پھر تم شجرہ طیبہ بن جاتے ہو یعنی شجرہ طیبہ بننے کے اہل ہو جاتے ہو۔اردگرد جو تمہارے کانٹے لگے ہوئے ہیں وہ تمہیں خراب کر رہے ہیں، تمہاری صحت پر بداثر ڈال رہے ہیں یعنی روحانی طور پر جس ترقی کے تم اہل خدا کے نزدیک ہو جاتے ہو اس ترقی کی راہ میں یہ روکیں ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ تم سے وہی سلوک کرتا ہے کہ ان روکوں کو دور فرما نا شروع کر دیتا ہے۔" کیا تم نے نہیں دیکھا کہ کسان عمدہ پودوں کی خاطر کھیت میں سے ناکارہ چیزوں کو اکھاڑ کر پھینک دیتا ہے۔“ کیسا ایک طبعی سلسلہ ہے جس کی طرف اشارہ فرمایا گیا کہ تم اب وہ پودا بن گئے ہو جس کی خدا حفاظت فرمائے گا اور تمہاری خاطر بڑے پودوں کو اکھاڑ کر پھینک دے گا یعنی تمہارے اندر جو بڑے درخت لگے ہوئے ہیں جھاڑ پھونس جو تمہاری نیکیوں کو چاٹ رہے ہیں ان کا خون پی رہے ہیں سیہ اب مالک کا فرض ہے کہ وہ چن چن کر باغ سے ان چیزوں کو نکال باہر کرے۔اور اپنے کھیت کو خوش نما درختوں اور بار آور پودوں سے آراستہ کرتا (ہے)۔“ تو انسانی نفس میں بہت ہی خوبصورت اور دلکش درخت اگنے لگیں گے یعنی نیکیوں کے درخت جو دیکھنے میں خوش نما دکھائی دیں گے اور اپنی صفات کے لحاظ سے وہ نہایت ہی اعلیٰ اور پیارے ہوں گے۔بارآور میں پھل دار ہونے کی طرف اشارہ فرمایا کہ وہ ایسے پودے ہیں جو پھل بھی دیتے ہیں۔اور ان کی حفاظت کرتا (ہے) اور ہر ایک ضرر اور نقصان سے ان کو بچاتا ہے۔“