خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 152
خطبات طاہر جلد 17 152 خطبہ جمعہ 6 مارچ1998ء جاری ہے۔سکولوں اور کالجوں کے بچوں کو وہ خبیث لوگ جو خراب کرتے ہیں وہ کہتے ہیں ایک چھوٹا سا مزا چکھ لو، ذرا سا، اس میں کیا حرج ہے اور جب وہ چکھتے ہیں تو پھر اگلے کی خواہش وہ پہلا مزہ پیدا کر دیتا ہے اور اس کی طلب شروع ہو جاتی ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کوئی بات بھی بے وجہ بیان نہیں کرتے۔اپنے سارے گناہوں سے تو بہ کر کے اس کے حضور میں آتے ہیں۔“ ( الحکم جلد 2 نمبر 12، 13 صفحہ:10 مؤرخہ 20و27 مئی 1898ء) یہ سارے گناہوں سے تو بہ کر کے آجانا کیوں ضروری ہے؟ اسی قسم کا نقشہ کھینچ کے ایک اور جگہ فرماتے ہیں: اس ایمان والے کے شیطان قریب بھی نہیں آتا وہ بھی تو وہاں ہی آجاتا ہے جہاں اس کو تھوڑی سی بھی گنجائش مل جاتی ہے۔جہاں اس کو تھوڑی سی گنجائش ہوتی ہے وہاں وہ قدم رکھتا ہے۔اب یہ نیا فقرہ ہے : ” جب خدا کو مقدم رکھا جائے تو برکات کا نزول ہوتا ہے۔۔۔“ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے غیر معمولی برکات نازل فرماتا ہے۔یہ سب باتیں جو بیچ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مزید لکھی ہوئی ہیں جو نقطے ڈال کے لمبی عبارت کو چھوٹا کرنے کی کوشش کی گئی ہے یہ ساری نیکیاں حاصل ہوتی ہیں۔۔۔۔یہ باتیں اور کامل ایمان حاصل ہوتا ہے تو بہ استغفار سے اس کی کثرت کرو اور رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَ إِنْ لَّمْ تَغْفِرُ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَسِرِينَ - (الاعراف: 24) پڑھا کرو اور اس کی کثرت کرو۔“ ( البدر جلد 2 نمبر 44، 45 صفحہ: 3 مؤرخہ 24 نومبر و 1 دسمبر 1904ء) اب یہ ایک بہت ہی اہم نکتہ ہے جس کا آغاز آدم سے ہوا ہے اور جیسا کہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک عبارت پڑھ کے سناؤں گا۔یہ دعا ہر گناہ گار اور گناہوں سے گھرے ہوئے اور ملوث انسانوں کے لئے انتہائی ضروری ہے کیونکہ یہ جو فرمایا کہ سب قسم کے گناہوں سے تو بہ کر کے اس کے حضور حاضر ہو جاؤ یہ اس دعا کے بغیر ممکن نہیں اور شیطان سے جو جنگ شروع ہے اس کا علاج یہی دعا ہے اور یہ وہ دعا ہے جو اس جنگ کے آغاز پر اللہ تعالیٰ نے آدم کو خود سکھائی۔تو نہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام رستوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں بلکہ وہ