خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 140
خطبات طاہر جلد 17 140 خطبہ جمعہ 27 فروری 1998ء اب دیکھ لیں کیسی پیاری بات ہے۔ یہ بتانے کے باوجود کہ خدا کے سوانح سچے ہیں ان پر عمل کرو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جانتے ہیں کہ اس کے باوجود دل سوئے رہیں گے۔ اس کے تذکرے کرتے چلے جائیں، بار بار کریں، عمر بھر کریں مگر جن دلوں کی آنکھ نہیں کھلتی نہیں کھلے گی ، وہ خواب غفلت میں سوئے پڑے رہیں گے اور یہ باتیں ان کے سر کے اوپر سے گزر جائیں گی اور سمجھیں گے کہ دوسروں کے متعلق ہو رہی ہیں ہمارے منہ ہمارے متعلق نہیں ہور ہیں اور اس : راس میں ساری جماعت جو میرے مخاطب ہے، الا ماشاء اللہ ، سب کا یہی حال ہے۔ خود میرا بھی یہی حال تھا اب کم ہو چکا ہے اور دن بدن کم ہو رہا ہے مگر بسا اوقات میں اپنے آپ کو ایسی حالت میں پکڑ لیتا ہوں جہاں میں جانتا ہوں کہ میری سوچ درست نہیں تھی یعنی میرے قلبی رد عمل کی اصلاح کی ضرورت تھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہی اچھا طریق ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے توجہ پھیر دی اور پکڑ لیا کہ اچھا طریق نہیں ہے۔ تو یہ سلسلہ اصلاح زندگی بھر کا سلسلہ ہے۔ اس لئے جیسے میں آپ کے سامنے اقرار کر رہا ہوں آپ لوگوں کے سامنے نہ کریں اپنے سامنے تو کریں، اپنے خدا کے سامنے تو کریں اور ان سچے سوانح سے ایک اور حکایت اپنے دل کی، اپنی زندگی کی لکھیں جن سچے سوانح کو جانتے ہوئے اللہ تعالی ان سے صرف نظر فرما تا رہا ہے۔ جب چاہتا ہلاک کر سکتا تھا لیکن اس کی رحمت اور اس کے حلم نے ہلاکت کا فیصلہ کرنے کی بجائے مہلت دینے کا فیصلہ کیا۔ پس اس مہلت سے فائدہ اٹھائیں اور جان لیں کہ یہ مہلت ہمیشہ کی مہلت نہیں ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں ایسا واقعہ ہو سکتا ہے کہ قضاء وقدر کا سلسلہ ایسے وقت نازل ہو جائے کہ ابھی آپ کی تمنا ئیں باقی تھیں ۔ ایسے وقت میں آپ کی زندگی کا سلسلہ منقطع ہو جائے جس کے بعد پھر کسی اصلاح کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی ۔ فرمایا : توحید کی ایک قسم یہ بھی ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت میں اپنے نفس کے اغراض کو بھی درمیان سے اُٹھا دے اور اپنے وجود کو اس کی عظمت میں محو کرے۔“ الحکم جلد 2 نمبر 3 صفحہ:1 مؤرخہ 13 مارچ 1898ء) یہ پچھلی ساری بیماریوں کا علاج ہے۔ توحید کی ایک قسم یہ بھی ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت میں اپنے نفس کے اغراض کو درمیان سے اٹھا دے ۔ اکثر لوگ توحید سے تعلق اس لئے رکھتے ہیں کہ ان کے نفس کی اغراض توحید سے تعلق رکھے بغیر پوری ہو نہیں سکتیں اور اسی حد تک ان کا تعلق رہتا ہے کہ ان کے لئے