خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 127
خطبات طاہر جلد 17 127 خطبہ جمعہ 20 فروری1998ء پھر آخر پاگل ہی ہو جایا کرتے ہیں۔جن پہ تازہ معرفت اترتی ہے ان کے اندر پاک تبدیلیاں بھی تو ہوتی ہیں۔ان کی بدیاں جھڑتی ہیں ، ان کے اندر تازہ معرفت کے نتیجہ میں نئے نئے اعلیٰ اخلاق پیدا ہوتے ہیں۔پہلے وہ غفلت کی حالت میں بعض برائیوں کو پہچان نہیں سکتے جب تازہ معرفت اترتی ہے تو ان کی آنکھیں ان برائیوں کو دیکھنے لگ جاتی ہیں اور یہ سفر ایسا ہے جو جاری سفر ہے۔میں اس سے منتقلی نہیں ہوں۔آپ میں سے کوئی بھی اس سے مستی نہیں ہے۔ہمیشہ انبیاء بھی جب تازہ معرفت اترتی دیکھتے ہیں تو اپنے دل میں نیکی کا ایک نیا رنگ اُبھرتا ہوا دیکھتے ہیں۔پس یہ دائی سفر ہے ادنی آدمیوں میں تازہ معرفت ان کی برائیوں پر روشنی ڈالتی ہے اور انسان ان برائیوں کو پہچاننے لگتا ہے جو پہلے سے دل میں موجود تھیں اور خیال بھی نہیں ہوتا کہ دل میں موجود ہیں یا ہماری عادتوں میں موجود ہیں یا ہمارے کہنے میں موجود ہیں لیکن موجود ہوتی ہیں اور انبیاء کی تازہ معرفت ان کی خوبیوں میں ترقی کرنے کا موجب بن جاتی ہے۔پس تازہ معرفت تو ہمیشہ پھل دکھائے گی اور ہمیشہ ایسا اثر انسان پر چھوڑے گی جس کے نتیجہ میں وہ کچھ نہ کچھ تبدیل شدہ وجود دکھائی دے۔پس وہ سارے لوگ جو دعویٰ کرتے ہیں اور مجھے بھی بعض دفعہ لکھتے رہتے ہیں کہ ہم تو بڑے صاحب عرفان ہیں ہم پر تازہ معرفت اترتی ہے یا لفظ یہ استعمال نہ بھی کریں تو مضمون یہی ہوتا ہے۔ان کو میں بسا اوقات یہ لکھتا ہوں، سمجھاتا ہوں کہ بھئی اس تازہ معرفت نے تمہارے اندر کیا تبدیلی پیدا کی؟ کیا پہلے سے بہتر انسان بن گئے ہو۔اگر اس کی پروا ہی کوئی نہیں اور سمجھتے ہو کہ تم انعامات کے وارث بنائے جارہے ہو تو حد سے زیادہ جہالت ہے۔یہ خدا سے دوری کا نام ہے، معرفت اس کو نہیں کہا کرتے۔پس تازہ معرفت کی پہچان جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائی وہ یہ ہے: اگر معرفت کا دعویٰ کر کے کوئی اس پر نہ چلے تو یہ نری لاف گزاف ہی ہے۔پس ہماری جماعت کو دوسروں کی سستی غافل نہ کر دے۔(اب یہ بھی عجیب کلام ہے کہ اس کا تعلق کیا ہوا۔پس ہماری جماعت کو دوسروں کی سستی غافل نہ کر دے اور اس کو کاہلی کی جرات نہ دلا دے۔“ الحکم جلد 2 نمبر 3 صفحہ:1 مؤرخہ 13 مارچ 1898ء) اب جن لوگوں کو نیک سمجھ کر آپ ان کے قریب ہوتے ہیں اگر ان کے اندرستی پائی جاتی ہے تو وہ سستی کہیں آپ کو بھی غافل نہ کر دے۔آپ سمجھ رہے ہیں کہ وہ ولی اللہ اور بزرگ ہیں اور ان کا قرب