خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 126 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 126

خطبات طاہر جلد 17 126 خطبہ جمعہ 20 فروری1998ء کی صحبت کے رنگ سے رنگین ہونے لگیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : ” یہی ہمارا منشاء ہے اور اسی کو ہم دنیا میں قائم کرنا چاہتے ہیں۔‘ ایک دوسری تحریر جس کا عنوان ہے ”اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”ہماری جماعت کے لئے سب سے زیادہ ضروری ہے کہ وہ اپنے اندر پاک تبدیلی کریں، کیونکہ اُن کو تو تازہ معرفت ملتی ہے۔“ اب یہ وہ نکتہ ہے جس کو آپ کو سمجھنا چاہئے۔آپ کو ہمیشہ تازہ معرفت ملتی ہے۔کونسی دُنیا میں ایسی جماعت ہے جس کو ہمیشہ تازہ معرفت ملتی ہو۔آپ کے سامنے ہمارے رسائل بھی، ہماری MTA بھی ، ہمارے دوسرے ذرائع اور مقررین اور واعظین سارے آپ کو تازہ معرفت عطا کرتے ہیں اور جب بھی آپ استفادہ کی خاطر نیک دلی سے ان کے پاس بیٹھیں گے یا ان سے فائدہ اٹھانے کی خاطر آپ اپنے دل کے دروازے کھولیں گے تو یاد رکھیں آپ وہ جماعت ہیں جن کو روزانہ تازہ معرفت ملتی ہے اور تازہ معرفت میں ایک اور بڑا دلچسپ مضمون ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پاک بندوں کو یعنی اس جماعت کو نئے نئے نکات ہمیشہ سمجھاتا رہتا ہے۔پس تازہ معرفت کے دونوں پہلو ہیں۔ایک وہ معرفت جو دیکھنے والے اور سننے والے کے لئے تازہ ہی ہوتی ہے چنانچہ بسا اوقات لوگ لکھتے ہیں کہ ان نکات کو سنا ہوا تھا لیکن پوری سمجھ نہیں آئی تھی حالانکہ ہمیشہ سے اسی طرح موجود تھا قرآن میں لیکن اب یوں لگا ہے جیسے تازہ معرفت ملی ہے۔پس بعض دفعہ تو تازہ معرفت ایک چیز کی تازہ پہچان سے تعلق رکھتی ہے اور بعض دفعہ نشان کے طور پر آسمان سے اترتی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس دوسری معرفت کا ذکر بھی تازہ معرفت کے الفاظ میں فرمایا ہے۔اگر ایک شخص اللہ سے تعلق رکھتا ہے تو لازم ہے کہ اس کے اوپر تازہ معرفت اترے اور لازم ہے کہ اگر وہ خود تازہ معرفت اترتی ہوئی محسوس نہیں کرتا تو خدا کے ایسے بندوں کے قریب ہو جن پر وہ تازہ معرفت اترتی دیکھے گا، جان لے گا کہ یہ عرفان اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کئے بغیر ممکن ہی نہیں ہے کہ کسی کے دل پر نازل ہو۔پس فرماتے ہیں: وو ” سب سے زیادہ ضروری ہے کہ وہ اپنے اندر پاک تبدیلی کریں، کیونکہ اُن کو تازہ معرفت ملتی ہے اور اگر معرفت کا دعویٰ کر کے کوئی اس پر نہ چلے تو یہ نری لاف گزاف ہی ہے۔“ ساتھ ہی تازہ معرفت کے ساتھ اس عمل کی طرف بھی اشارہ فرما دیا جو معرفت کی پہچان کے لئے ضروری ہے۔ایک آدمی کہہ سکتا ہے مجھ پر بڑی تازہ معرفتیں اتر رہی ہیں اور کئی ایسے لوگ بیچارے