خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 124 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 124

خطبات طاہر جلد 17 124 خطبہ جمعہ 20 فروری 1998ء حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام ہمیشہ جماعت کو نصیحت فرماتے رہے۔وہ لوگ جو دور سے بیعت کا خط لکھ دیا کرتے تھے اور بظاہر مومنین میں داخل ہو جاتے تھے آپ فرماتے ہیں کہ تمہارا فرض ہے کہ یہاں آؤ اور میرے پاس کچھ عرصہ ٹھہر و۔اتنا اصرار تھا اس بات پر کہ اس زمانہ کے حالات کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ ایسا بوجھ کیسے اٹھاتے تھے۔دور دراز سے یا قریب سے جس نے بھی بیعت کا لکھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ محسوس کیا کہ اس کی تربیت کی ضرورت ہے تو آپ نے محض نصیحت کو کافی نہیں جانا بلکہ فرمایا آؤ اور میرے پاس رہو اور اس پاس رہنے کے نتیجہ میں آپ کو کامل یقین تھا اور اس کا عبارتوں میں کھلم کھلا اظہار کیا کہ ہو نہیں سکتا کہ تم میرے ساتھ رہو اور خدا کا میرے ساتھ ہونا تمہیں دکھائی نہ دے۔تم لازما اللہ تعالیٰ کو میرے ساتھ دیکھ لو گے۔الحکم جلد 5 نمبر 31 صفحہ:3 مؤرخہ 24اگست 1901ء) یہ وہ مرکزی نصیحت ہے جو دراصل صحبت صالحین سے تعلق رکھتی ہے۔مگر جب انبیاء کی صحبت نصیب ہو جائے تو بڑی شان سے اس حقیقت کو آپ جلوہ گر دیکھیں گے کہ اگر آپ واقعۂ خدا کے ساتھ ہونے کی وجہ سے یا خدا کے قریب ہونے کی خاطر ، خدا کے کسی پاک بندے کے قریب ہوئے تو اللہ آپ کو وہاں دکھائی دے گا۔صبح شام ہر فعل میں خدا اُن کے ساتھ دکھائی دے گا۔چنانچہ بہت سے صحابہ نے اپنے تجربہ کو بڑی تفصیل سے لکھا ہے کس طرح ہم پہلے دور سے ایمان لانے والے تھے جب قریب آئے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ رہے تو اس ساتھ نے زندگی کی کیسی کا یا پلٹ دی۔بیان کرتے ہیں کہ کوئی لمحہ ایسا نہیں گزرتا تھا جب ہم خدا کے فضلوں کی بارش حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر نہیں دیکھتے تھے۔تو فرمایا: وو صادق کے ساتھ رہو کہ تقویٰ کی حقیقت تم پر کھلے اور تمہیں توفیق ملے۔“ اس کے ساتھ ہی تقویٰ کی توفیق بھی ملتی ہے۔جو اچھے لوگوں کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں ان کی نیکی کی توفیق بڑھ جایا کرتی ہے اور جن کو انبیاء کی صحبت نصیب ہو جائے ان کی نیکی کی توفیق تو اس طرح چھلانگیں لگاتی ہوئی آگے بڑھتی ہے کہ صحابہ میں، جنہوں نے بھی صحابہ کو دیکھا ہے، ان کو وہ رنگ دکھائی دے جائیں گے۔صحابہ اور غیر صحابہ میں بہت فرق ہے اور جنہوں نے صحابہ کے رنگ اختیار کر لئے روحانی صحبت کے لحاظ سے ان میں اور عام انسانوں میں بہت بڑا فرق ہے۔پس فرمایا: