خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 125 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 125

خطبات طاہر جلد 17 125 خطبہ جمعہ 20 فروری1998ء یہ حقیقت تمہیں معلوم ہونی چاہئے ) یہی ہمارا منشاء ہے اور اسی کو ہم دنیا میں قائم کرنا چاہتے ہیں۔الحکم جلد 7 نمبر 12 صفحہ : 3 مؤرخہ 31 مارچ 1903ء) پس اس پاک تبدیلی کے ساتھ پاک لوگوں کے گروہ بنا ئیں اور نیک لوگ مل کر بیٹھیں ، نیک لوگ مل کر ایک دوسرے میں خدا کے آثار تلاش کریں لیکن ان دعا گو پارٹیوں کی طرح نہ ہو جائیں جور بوہ میں بھی ایک زمانہ میں ہوا کرتی تھیں اور کئی اور جگہ بھی ملتی تھیں۔کچھ لوگ بظا ہر صوفیت کا لبادہ اوڑھ کر وہ چند لوگوں کو بزرگ قرار دیتے تھے ، وہ ان کو بزرگ قرار دیتے ہیں، ان کا ایک جتھا سا بن جاتا ہے اور وہ اکٹھے پھرتے ہیں ، سیروں پہ بھی نکلتے ہیں اور شام کو بھی اکٹھے ہوتے ہیں، گھروں میں بھی اکٹھے ہوتے ہیں، مل کر دعائیں کرتے ہیں کہ دیکھ لو یہ نیکی ہے، یہ نیکی نہیں ہے۔یہ نیکی کی حقیقت سے نا آشنائی ہے۔نیکی سیکھنی ہے تو رسول اللہ لی ایم کے طریق سے سیکھیں اور آپ کی سنت کو اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی ذات میں جو دکھایا ہے اس کو قریب سے دیکھیں۔اگر وہ زمانہ یعنی آنحضرت صلی اینم کا زمانہ دور سے دکھائی دیتا ہے تو اس قریب کے زمانہ میں مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھنے سے وہ بالکل قریب آجائے گا اور اس طرح آخرین کو اولین سے ملایا جائے گا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ طریق نہیں تھا کہ چند آدمیوں کی ٹولی بنائی ہوئی ہے۔بدوں کو بلایا کرتے تھے کہ آپ کی صحبت میں بیٹھیں اور آپ کی صحبت سے رنگ پکڑیں اور بہت سے خام تھے جو اس آواز پر لبیک کہتے ہوئے آگئے اور جب قریب پہنچے تو پھر خام نہ رہے، ان کے اندر حیرت انگیز پاکیزہ تبدیلیاں پیدا ہو ئیں۔آج بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ صحبت زندہ ہے خدا کے بعض نیک بندوں میں، جنہوں نے اپنے آپ کو دین کے کاموں میں جھونک دیا ہے اور کوئی دکھاوا نہیں کوئی اپنی بڑائی کا احساس نہیں ہے۔عام سادہ لوح بندے ہیں جن کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ کوئی ان کو نیک سمجھتا ہے کہ نہیں۔ان کو ایک دھن لگ گئی ہے کہ وہ خود نیک کام کریں اور دین کی خدمت جیسے بھی ہو سکے وہ بجالائیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کا پھل ہیں۔پس ان لوگوں سے تعلق بڑھاؤ اور اس طرح تعلق نہ بڑھاؤ کہ پارٹی بن کے الگ ہو جاؤ بلکہ اس طرح تعلق بڑھاؤ کہ اس تعلق کا دائرہ کمزوروں پر بھی پھیلے اور وہ بھی آپ