خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 123
خطبات طاہر جلد 17 123 خطبہ جمعہ 20 فروری1998ء تقوی اختیار کرو کہ خدا تمہارے ساتھ ہو۔(چند الفاظ ہیں کتنے وزنی ہیں کس طرح دل پر حاوی ہو جاتے ہیں۔تقویٰ اختیار کرو کہ خدا تمہارے ساتھ ہو۔صادق کے ساتھ رہو کہ تقویٰ کی حقیقت تم پر کھلے۔“ الحکم جلد 7 نمبر 12 صفحہ: 3 مؤرخہ 31 مارچ 1903ء) یہ دوسرا پہلو جو ہے یہ بھی بہت ہی کارآمد اور روز مرہ کی زندگی پر اثر انداز ہونے والا پہلو ہے۔صحبت صالحین کا فلسفہ آپ نے بیان فرمایا: ” تقویٰ اختیار کرو کہ خدا تمہارے ساتھ ہو۔‘اگر خدا تمہارے ساتھ ہو گا تو تمہیں بھی اپنی عادت میں ایسی تبدیلی پیدا کرنی ہوگی کہ تم صادق کے ساتھ رہو اور ” خدا تمہارے ساتھ ہو۔‘ کی پہچان بیان فرما دی۔کوئی انسان کہہ سکتا ہے اللہ ہمارے ساتھ ہے۔کبھی مشکل میں عام آدمیوں کی بھی مدد ہو جایا کرتی ہے اور اللہ تعالی مدد فرما دیتا ہے، مشرکین کی بھی مدد فرما دیتا ہے۔اس سے کسی کو یہ دھوکا نہ ہو کہ خدا ہمارے ساتھ ہے۔جب خدا ساتھ ہوتو ہر معاملہ میں ، زندگی کے ہر موڑ پر خدا ساتھ ہوتا ہے اور اس کی ظاہری پہچان دیکھیں کتنی پیاری بیان فرمائی۔” صادق کے ساتھ رہو۔اگر تمہارے ساتھ خدا ہے تمہیں وہم ہے ایک ، یا خیال ہے یا یقین ہے تو پھر تم بھی تو خدا کے ساتھ رہو اور جو خدا کے ساتھ رہنے والے لوگ ہیں ان کے اندر صدق کی نشانیاں پائی جاتی ہیں، طبعاً تم ان کے ساتھ رہو گے۔تو ایک نصیحت اور اس نصیحت کا جواب اور اس نصیحت کو پہچاننے کی علامتیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ساتھ ساتھ بیان فرمارہے ہیں۔ایک ہی عبارت ہے جو ساری زندگی پہ حاوی ہو سکتی ہے اور اگر آپ تیزی سے پڑھ جائیں تو آپ کو پتا بھی نہیں لگے گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کیا فرما گئے ہیں۔اگر یقین ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کوئی کلمہ بھی قرآن اور حدیث اور اپنے روحانی تجربہ سے الگ نہیں ہے اور ہر فقرہ پہلے فقرہ سے ایک تعلق رکھتا ہے۔اگر یہ یقین نہ ہو تو آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عبارتوں کی کوئی سمجھ نہیں آئے گی۔پس اب یہ دیکھیں ” تقوی اختیار کرو کہ خدا تمہارے ساتھ ہو۔“ اتنا اعلیٰ تقویٰ کا پھل ہے جو بیان فرمایا گیا، ہمارے سامنے رکھا گیا، ساتھ ہی ” صادق کے ساتھ رہو۔اگر چاہتے ہو خدا تمہارے ساتھ ہو تو جو خدا کے ساتھ ہیں ان کے ساتھ رہو اور خدا جن کے ساتھ ہے ان کے ساتھ رہو کہ تقویٰ کی حقیقت تم پر کھلے۔جب خدا کے سچے لوگوں کے سلوک کو قریب سے دیکھو گے تو وہ وقت ہے جب تقویٰ کی حقیقت تم پر کھلے گی۔