خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 107
خطبات طاہر جلد 17 107 خطبہ جمعہ 13 فروری1998ء میں خدا دکھائی دینے لگا تھا۔جب تک ان کی آنکھیں اندھی یا بیمار تھیں ان کو دکھائی نہیں دیتا تھا مگر جب دکھائی دینے لگا تو ان کے لئے عشق کے سوا چارہ ہی کوئی نہیں تھا، اپنے نفس کو بھلا دینے کے سوا ان کے لئے کوئی اور رستہ نہیں تھا، تو تان اس بات پر توڑی ہے کہ کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے آپ کو اتنا بڑا دکھا رہے ہیں کہ میرے جیسے بنو گے تو بچو گے۔یہ فرما رہے ہیں کہ محمد رسول اللہ صل للہ ایم جیسے بنو گے تو بچو گے ، میں بھی تو اسی طرح بچا ہوں۔محمد رسول اللہ صلی ایم کی پیروی کی ہے تو تمہارا امام بنایا گیا۔پس اس بات کو ذہن نشین کر لو کہ اللہ تعالیٰ تم میں سکونت کرے اور خدا تعالیٰ کے آثار تم میں ظاہر ہوں۔جب تک یہ نہ ہو اس وقت تک شیطانی حکومت کا عمل دخل موجود ہے۔یہ وہ حکومت کا نقشہ ہے جس کو الہی حکومت کہا جاتا ہے۔یہ حکومت آجائے تو شیطان کی مجال نہیں کہ اس حکومت میں دخل اندازی کر سکے۔اب شیطان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: شیطان جھوٹ ، ظلم، جذبات، خون، طول امل، ریا اور تکبر کی طرف بلاتا ہے اور دعوت کرتا ہے۔“ جھوٹ دوسروں میں دیکھو کتنا برا لگتا ہے اپنے نفس کو تھوڑی دیر کے لئے بھلا دو اور غیر کی نظر سے دوسرے کے جھوٹ کو دیکھو کہ کتنا کر وہ لگتا ہے اور یہی جھوٹ ہے جس پر تم منہ مارتے ہو۔اس کو پل پل کھاتے ہو اور بھول جاتے ہو کہ یہی وہ جھوٹ ہے جس سے تمہیں شدید نفرت ہے۔اپنی ذات میں نفرت دکھائی نہیں دیتی۔یہ شیطان کا دھوکا ہے۔شیطان جھوٹ ،ظلم، جذبات، خون ( یعنی ایک دوسرے کا خون کرنا) ، طول آمل (اُمید کو کھینچتے چلے جانا یعنی ایسی چیزوں کی خواہش کرتے چلے جانا جو اپنی طاقت اور بساط سے بھی بہت زیادہ ہوں، بہت بڑھ کر ہوں لیکن کبھی ختم ہونے میں نہ آئیں) ریا (دکھاوا ) اور تکبر کی طرف بلاتا ہے اور دعوت کرتا ہے۔“ یہ دعوت کرتا ہے سے کیا مراد ہے؟ بلاتا ہے اور دعوت کرتا ہے یہ دعوت شیطان کے چیلوں سے تعلق رکھتی ہے۔جتنے بھی شیطانی وجود ہیں وہ بھی ایک دعوت کیا کرتے ہیں اور جتنے بھی الہی وجود ہیں وہ بھی ایک دعوت کیا کرتے ہیں۔پس آنحضرت صلی یہ ستم کا وجود خدا نما ہونے کی وجہ سے ان کو تو بلاتا ہی تھا جو پہچان رہے تھے کہ اس کی ذات میں خدا جھلک رہا ہے لیکن دعوت شرط تھی اس طرف لوگوں کو بلاتے بھی تھے۔اس لئے یہ خیال کر لینا کہ شیطان بلاتا نہیں یہ ایک وہم ہے۔خوش فہمی ہے۔