خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 108 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 108

خطبات طاہر جلد 17 108 خطبہ جمعہ 13 فروری1998ء شیطان ضرور بلاتا ہے اور جو لوگ آپ کو ان سب چیزوں کی طرف بلانے والے، ساتھی ، دوست جتنے بھی آپ کے قریبی ہوں یہ سارے شیطان کے چیلے ہیں۔پس ضرور ہے کہ یا ان سے منہ موڑا جائے یا ان کی اصلاح کی کوشش کی جائے۔اب ” تکبر کی طرف بلاتا ہے اور دعوت کرتا ہے۔اب یہ لفظ دعوت کرتا ہے اگر ایک انسان اسی پر غور کرے تو وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سچائی کا صرف اس فقرہ سے قائل ہو سکتا ہے۔یہ عارفانہ کلام ہے ،ایک سچے کا کلام ہے، جس کو ان سب راہوں کا تجربہ ہے محض ایک مولوی کی نصیحت نہیں۔اس کی تو حیثیت ہی کوئی نہیں ، اس کو پتا ہی نہیں کہ سچوں کے دل پہ کیا گزرتی ہے ان کو کیسا عرفان نصیب ہوتا ہے اور ہر بات کا ہر حصہ سچا ہوتا ہے ورنہ ایک اردو دان یہ کہے گا او ہو یہ فقرہ میں زائد لکھا گیا ہے۔ریا اور تکبر کی طرف بلاتا ہے اور دعوت کرتا ہے۔اس بے وقوف کو کیا پتا کہ اردو کیا ہوتی ہے۔اُردو کسی نے سیکھنی ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے سیکھے۔ہر زبان سچائی سے بنتی ہے، ہر زبان میں سچائی کی طاقت چمکتی ہے اور اردو میں بھی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک مقام اور مرتبہ ہے اس کو کبھی کوئی اور نہیں پہنچ سکتا۔نہ پہلے خلفاء پہنچ سکے۔میرا تو سوال ہی نہیں نہ آئندہ کبھی کوئی خلفاء پہنچ سکیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بات ہی اور ہے اور یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں آپ کے مقام کی طرف راہنمائی کرتی ہیں۔ریا اور تکبر کی طرف بلاتا ہے اور دعوت کرتا ہے۔اس کے بالمقابل اخلاق فاضلہ، صبر، محویت ، فنافی اللہ ، اخلاص، ایمان فلاح یہ اللہ تعالیٰ کی دعوتیں ہیں۔( یعنی ان چیزوں کی طرف بلانا ضروری ہے اور اللہ ہمیشہ انہی چیزوں کی طرف دعوت دیا کرتا ہے۔) 66 انسان ان دونوں تجاذب میں پڑا ہوا ہے۔تجاذب کہتے ہیں ایسی چیز جس میں کھینچنے کی طاقت ہو اور تجاذب کا زائد معنی یہ ہے کہ دو طرف کھینچنے کی طاقت ہو۔ایک طرف ایک طرف سے کھینچا جا رہا ہو ، دوسری طرف سے دوسرا گروہ دوسری طرف کھینچ رہا ہو جیسے رسہ کشی میں ہوا کرتا ہے یہ ایک تجاذب ہے۔فرماتے ہیں: انسان ان دونوں تجاذب میں پڑا ہوا ہے پھر جس کی فطرت نیک ہے اور سعادت کا مادہ اس میں رکھا ہوا ہے وہ شیطان کی ہزاروں دعوتوں اور جذبات کے ہوتے ہوئے بھی اس فطرت رشید، سعادت اور سلامت روی کے مادہ کی برکت سے اللہ تعالیٰ کی ہی طرف دوڑتا ہے اور خدا ہی میں اپنی راحت تسلی اور اطمینان کو پاتا ہے۔“