خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 106 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 106

خطبات طاہر جلد 17 106 خطبہ جمعہ 13 فروری 1998ء پردہ حائل جو تھا وہ اٹھ گیا۔ہر انسان اور اس کے راہنما کے درمیان اگر پردہ ہے تو وہ راہنما سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔اگر پردہ اٹھ جائے تو ہر خرابی سے پردہ اٹھ جائے گا اور بعینہ انسان اس کی پیروی میں اپنی زندگی کو فنا کر دے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے تعلق کو جو آنحضرت صلی یا یہ تم سے تھا بالکل اسی طرح بیان فرمایا ہے۔آپ اس مصور کی طرح تھے جس نے پردہ اٹھا دیا لیکن اس وقت اٹھایا یا اس طرح اٹھایا کہ اپنا نفس اتنا صیقل ہو چکا تھا کہ اس پہ جو آقا تھا اس کی تصویر دکھائی دے رہی تھی اور اپنی تصویر کا کوئی نشان تک نہیں ملتا تھا۔یہ بظاہر برابری، برابری نہیں کیونکہ عکس، عکس ہی رہے گا اور جس کا عکس ڈالا جا رہا ہے وہ حقیقت میں حاوی وجود یا اعلیٰ درجہ کا وجود بنا رہے گا لیکن جو عکس مکمل کر دے اس کے بھی کیا کہنے۔اس شان کی ربوبیت اس کے اندر پیدا ہوتی ہے یعنی اپنے آپ میں سو جانا، اپنے آپ سے کھوئے جانا کہ آقا کے سوا کوئی دکھائی نہیں دیتا۔پس بعض لوگ گھٹیا سا شعر پڑھتے ہیں : جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی ( موجی رام موجی) یہ جھوٹا اور بے معنی شعر ہے مگر جس کے دل میں محمد مصطفی صلی شاہی یتیم کے سوا کوئی ہو ہی نہ اس پر تو بعینہ صادق آتا ہے کہ اپنے نفس میں جب بھی دیکھا محمد رسول اللہصلی ای نمک و جلوہ گر دیکھا۔اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ تم مجھے سامنے رکھو اور اپنے پردے اٹھا دو۔دیکھو کتنا مشکل مگر کتنا حقیقت پسند پیغام ہے ایسا پیغام جس سے اعلی پیغام آپ کو دیا نہیں جاسکتا۔مریدوں ، معتقدوں میں داخل ہونے کا دعویٰ تب ہی سچا اور بجا ہوگا۔یہ بات اچھی طرح پر اپنے ذہن نشین کر لو کہ جب تک یہ نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ تم میں سکونت کرے اور خدا تعالیٰ کے آثار تم میں ظاہر ہوں اس وقت تک شیطانی حکومت ( کا) عمل ودخل موجود ہے۔“ اب سوال یہ ہے کہ ابھی تو رسول اللہ صلی ال ایتم کی باتیں ہو رہی تھیں اور اپنی باتیں رسول اللہ اللہ ایم کی نسبت سے ہو رہی تھیں اچانک خدا تعالیٰ کی طرف مضمون کیوں پھیر دیا۔یہ اس لئے ہے کہ دراصل محمد رسول الله صل اللہ تم اس لئے عظمت رکھتے ہیں کہ خدا نما تھے، اس لئے عظمت رکھتے ہیں کہ خدا آپ صلی للما یہ تم کے دل میں اتر آیا تھا ورنہ حضرت محمد رسول اللہ صلی یا تم ایک عام عرب بھی تو سمجھے جا سکتے تھے دنیا کو کیا پر وا ہوئی تھی۔وہ صحابہ جو دشمن تھے کیوں مطیع ہوئے اس لئے کہ آپ مالی یہ تم کی ذات