خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 178
خطبات طاہر جلد 17 178 خطبہ جمعہ 13 مارچ 1998ء جماعت سے کاٹ لیتے ہیں۔یہ سلسلہ روز جاری ہونے والا سلسلہ ہے۔ہر روز ایسے انسانوں کی خبر ملتی رہتی ہے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پہلے تقاضوں کو نظر انداز کر دیا تو آخری باتیں ضرور پوری ہوئیں جن سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کو ڈرایا تھا۔”اے خدا کے بندو! دلوں کو صاف کرو۔“ دل ہی ہیں جو ہر صفائی، ہر برائی کی پہلی آماجگاہ ہیں۔یہاں اگر جھاڑو پھیرا جائے گندگیوں سے تو پھر پاک دل اس سے نکلے گا جس میں خوبیاں آکر اپنی جگہ بنالیں گی۔پس یہ بات میں بار بار کہتا ہوں اور کہتا چلا جاتا ہوں اور یہ بات ہر ایک کی سمجھ میں آجانی چاہئے مگر لفظوں میں سمجھ میں آجاتی ہے عمل کچھ نہیں ہوتا یا ہوتا ہے تو بہت تھوڑا ہوتا ہے۔اس لئے مجھے یہ باتیں دوہرانے دیں۔جتنا دو ہراؤں گا کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی کو تو خیال آ جائے گا کہ میں سنتا تو ہوں مگر ان باتوں پر عمل نہیں کرتا اس لئے اس دوہرانے سے فائدہ ہے۔فَذَكَرُ إِنْ نَفَعَتِ الذكرى (الاعلی: 10) کا یہی مضمون ہے۔فرمایا: اے خدا کے بندو! دلوں کو صاف کرو اور اپنے اندرونوں کو دھوڈالو۔“ جیسے بعض دفعہ بعض عورتوں کو جنون ہوتا ہے وہ ہر وقت گھر کے اندر وغیرہ دھوتی رہتی ہیں اور اپنا اندر نہیں دھوتیں۔فرمایا: اپنے اند رونوں کو دھوڈالو۔تم نفاق اور دورنگی سے ہر ایک کو راضی کر سکتے ہو۔“ دکھاوے کی زندگی ، باہر کی صفائی، اندرونے کو بھول جانا، اس سے ہوسکتا ہے تم ہر ایک کو راضی کر لو اور وہ تمہیں اور تمہارے گھر کو بہت شفاف اور چمکتا ہوا دیکھے۔سب کو کر سکو گے،مگر خدا کو نہیں۔خدا کو اس خصلت سے غضب میں لاؤ گے۔“ اب دنیا راضی ہو رہی ہے اور بہت خوش ہو رہی ہے بہت اچھا آدمی ہے، بہت اچھی عورت ہے۔اتنا صاف ستھرا آدمی اتنی صاف ستھری عورت ، گھر پاک وصاف اور یہی بات جو دُنیا میں تمہاری مدح کا موجب بن رہی ہے خدا کے غضب کو بھڑ کانے کا موجب بنتی ہے۔” خدا کو اس خصلت سے غضب میں لاؤ گے۔اپنی جانوں پر رحم کرو اور اپنی ذریت کو ہلاکت سے بچاؤ کبھی ممکن ہی نہیں کہ خدا تم سے راضی ہو حالانکہ تمہارے دل میں اس سے زیادہ کوئی اور عزیز بھی ہے۔“