خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 179
خطبات طاہر جلد 17 179 خطبہ جمعہ 13 مارچ 1998ء وہی ٹاٹ کے کپڑوں والی بات کہ دل میں اگر کوئی عزیز ہے تو جب ابتلا میں پڑو گے تو وہ عزیز خدا پر غالب آجائے گا۔اگر دل میں کوئی اور عزیز ہے سے مراد یہ نہیں ہے کہ کوئی اور پیارا ہے۔بے شمار پیارے ہوں گے، بے شمار دل میں عزیز ہوں گے مگر خدا کے مقابل پر اگر کوئی دل میں عزیز ہے تب تم خدا کی نظر میں پیارے نہیں ہو سکتے۔اس کی راہ میں فدا ہو جاؤ اور اس کے لئے محو ہو جاؤ اور ہمہ تن اس کے ہو جاؤ“ را از حقیقت ، روحانی خزائن جلد 14 صفحہ : 156 157) اس کی راہ میں فدا ہو جاؤ اور اس کے لئے محو ہو جاؤ اور ہمہ تن اس کے ہو جاؤ۔“ یہ سارے عشق کے منازل ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کھول رہے ہیں۔اب ایک لمبی تحریر ہے جو اس لحاظ سے بہت دلچسپ ہے کہ چلتے چلتے آسٹریلیا کے ایک سیاح سے باتیں کرتے ہوئے اس کو نصیحتیں فرمائی جارہی ہیں۔صبح سیر کے وقت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب روانہ ہوئے تو آسٹریلیا سے آیا ہوا ایک سیاح تھا وہ بھی ساتھ چل پڑا یا اسے دعوت دے دی گئی ہوگی اور اس دوران سیر اُس سے جو گفتگو ہوئی یہ دوسرے ساتھیوں نے ، سننے والوں نے بعد میں فوراً قلمبند کر لی۔پس یہ گفتگو ان الفاظ میں ہے۔دیکھو اگر کوئی شخص کسی حاکم کے سامنے کھڑا ہو۔( یہ آسٹریلین سیاح سے فرما رہے ہیں ) دیکھو اگر کوئی شخص کسی حاکم کے سامنے کھڑا ہو اور اس کا کچھ اسباب متفرق طور پر پڑا ہوا ہوتو یہ کبھی جرات نہیں کرے گا کہ اس اسباب کا کوئی حصہ چرالے خواہ چوری کے کیسے ہی قومی محرک ہوں۔“ مالک سامنے کھڑا ہو تو اس کا اسباب بکھرا پڑا ہو یہ عموماً سیاح کے اوپر اطلاق ہونے والی بات ہے کیونکہ کسی کے گھر میں تو سامان بکھرا ہوتا یا وہ سفر پر روانہ ہونے والا ہے یا سفر سے آیا ہے تو اس سیاح کو مخاطب کر کے یہ فقرہ دیکھیں کتنا اس کی صورت حال پر اطلاق پانے والا ہے جس کو وہ اپنے تجربہ سے خود سمجھ سکتا ہے۔اس کا کچھ اسباب متفرق طور پر پڑا ہوا ہو تو یہ شخص ) کبھی جرأت نہیں کرے گا کہ اس اسباب کا کوئی حصہ چرالے خواہ چوری کے کیسے ہی قومی محرک ہوں اور وہ کیسا ہی اس