خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 177
خطبات طاہر جلد 17 177 خطبہ جمعہ 13 مارچ 1998ء پاک اور صاف ہو کہ خدا کی قسم اگر اس کی خاطر ہمیں ان تمام خوبصورت لباسوں کو آگ میں جھونکنا پڑے تو ہم جھونک دیں گے۔تن ڈھانکنا ہے تو ٹاٹ سے ڈھانک لیں گے کیونکہ تن تو بہر حال ڈھانکنا ہے لیکن اللہ کی رضا کو نظر انداز نہیں کریں گے۔اس چھوٹے سے خوبصورت فقرہ میں یہ سارا مضمون بیان فرما دیا گیا۔اب کس خدا کی خاطر قربانیاں ہیں جس کے متعلق ہم جانتے ہیں کہ ہمارے حواس خمسہ اس تک پہنچ نہیں سکتے۔وہ غیب میں ہے اور غیب کے لئے حاضر کی قربانی ایک بہت بڑا مشکل مضمون ہے۔انسان حاضر پر غیب کو قربان کرتا ہے مگر غیب پر حاضر کو قربان نہیں کیا کرتا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خدا تعالیٰ کے غیب ہوتے ہوئے حاضر مضمون کو بیان فرما رہے ہیں کس کی خاطر تم یہ کام کرو گے۔وو وہ خدا جو آنکھوں سے پوشیدہ (ہے) مگر سب چیزوں سے زیادہ چمک رہا ہے جس کے جلال سے فرشتے بھی ڈرتے ہیں۔وہ شوخی اور چالا کی کو پسند نہیں کرتا اور ڈرنے والوں پر رحم کرتا ہے۔سو اس سے ڈرو اور ہر ایک بات سمجھ کر کہو۔تم اس کی جماعت ہو جن کو اس نے نیکی کا نمونہ دکھانے کے لئے چنا ہے۔“ تم اس کی جماعت ہو جن کو اس نے نیکی کا نمونہ دکھانے کے لئے چنا ہے۔“ یہاں غالباً جن کو کا لفظ جماعت پر اطلاق پا رہا ہے کیونکہ اُس کا لفظ واحد میں ہے۔اُس سے مراد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں تم اس کی جماعت ہو جن کو یعنی اس جماعت کو اُس نے یعنی اللہ تعالیٰ نے نیکی کا نمونہ دکھانے کے لئے چنا ہے۔سو جو شخص بدی نہیں چھوڑتا اور اس کے لب جھوٹ سے اور اس کا دل نا پاک خیالات سے پر ہیز نہیں کرتا وہ اس جماعت سے کاٹا جائے گا۔“ کاٹا جانے کے متعلق ایک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا فقرہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں ” میری جماعت میں سے نہیں ہے لیکن کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اس فقرہ کے دائرہ میں آتے ہیں، اس اظہار کے دائرہ میں آتے ہیں جو فوری طور پر تو کالے ہوئے دکھائی نہیں دیتے اور کوئی جماعت کی کارروائی ان کے خلاف نہیں ہوتی لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا انذار ضرور ان کے حق میں پورا اترتا ہے۔وہ رفتہ رفتہ دور ہٹتے ہٹتے واقعۂ جماعت سے کاٹے جاتے ہیں یا خود اپنے آپ کو